وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان آج واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس میں باضابطہ ملاقات ہوگی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کی وائٹ ہاؤس نے تصدیق کر دی ہے، جو مقامی وقت کے مطابق ساڑھے چار بجے اوول آفس میں منعقد ہوگی۔

ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کی اس ملاقات میں عالمی اور علاقائی معاملات پر تفصیلی گفتگو متوقع ہے، جب کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے۔

ملاقات کے ایجنڈے میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، انسداد دہشت گردی میں تعاون، افغانستان کی صورتحال اور خطے کے مجموعی حالات جیسے اہم امور شامل ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف، امریکی صدر سے ملاقات کے بعد اسی روز واپس نیویارک روانہ ہو جائیں گے تاکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہو سکیں۔ وہ جمعہ کے روز اجلاس سے خطاب بھی کریں گے، جس میں پاکستان کے موقف اور خطے کی صورتحال پر روشنی ڈالنے کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل نیویارک میں اسلامی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اجلاس کے دوران بھی وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کی ملاقات ہوئی تھی۔

اس موقع پر دونوں رہنما خوشگوار اور بے تکلف ماحول میں ایک دوسرے سے طویل گفتگو کرتے رہے۔ ملاقات کے دوران امریکی صدر نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے بھی مصافحہ کیا اور وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ گفتگو کے اختتام پر ’تھمز اپ‘ کا اشارہ کیا، جسے مثبت پیغام کے طور پر دیکھا گیا۔

اسلامی ممالک کے اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے امیر قطر، اردن کے بادشاہ اور انڈونیشیا کے صدر سے بھی علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں غزہ میں جنگ بندی کے امکانات اور خطے کے دیگر معاملات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف امریکی صدر

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری