اسرائیل نے مغربی کنارے کو ضم کیا تو ابراہیم معاہدوں کی حیثیت ختم ہوجائے گی: میکرون
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فرانسیسی صدر میکرون نے کہا ہے کہ اسرائیل نے مغربی کنارے کو ضم کیا تو یہ ابراہم معاہدوں کی حیثیت کو ختم کر دے گا۔
عالمی خبررساں ادارے کےمطابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز کہا تھا کہ امریکا کے دورے سے واپسی پر ان ممالک کو اپنا ’جواب‘ دیں گے جو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں۔
فرانس، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا ان کئی ممالک میں شامل ہیں جو اس ہفتے فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں یا کرنے والے ہیں، تاکہ دو ریاستی حل کے لیے تحریک کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔
نیتن یاہو کے دائیں بازو کے بعض اتحادیوں نے کہا ہے کہ حکومت کو اس کے جواب میں مغربی کنارے کو ضم کر لینا چاہیے۔
اپنے بیان میں فرانسیسی صدر میکرون کا کہنا تھا کہ امید ہے اسرائیل مغربی کنارے کو ضم نہیں کرے گا، مغربی کنارے کے معاملے پر صدر ٹرمپ بھی ہمارے ساتھ ہیں۔
میکرون نے کہا کہ مغربی کنارے کا معاملہ ہم سب اور امریکا کیلئے ریڈ لائن ہے، اگر غزہ کی صورتحال ایسے ہی جاری رہی تو یورپ کو ایکشن لینا ہوگا۔
فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ ہمیں امریکا کو قائل کرنا ہوگا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔
میکرون نے کہا کہ مکمل جنگ جانیں لے رہی ہے لیکن اس سے حماس کا خاتمہ نہیں ہوگا، جتنے حماس کے جنگجو پہلے تھے، آج بھی اتنے ہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مغربی کنارے کو ضم نے کہا
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔