یمن کے قریب ایل پی جی ٹینکر میں پھنسے پاکستانی محفوظ ہیں، جہاز روانہ ہوچکا، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ یمن کے قریب ایل پی جی ٹینکر میں پھنسے پاکستانی محفوظ ہیں، جہاز یمنی پانیوں سے روانہ ہوچکا ہے۔
اپنے بیان میں ترجمان نے کہا ہے کہ 17 ستمبر کو یمن کے ساحل کے قریب ایک ایل پی جی ٹینکر میں آگ لگ گئی تھی، ٹینکر پر کثیرالقومی عملہ موجود تھا جس میں 24 پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔
ترجمان کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پاکستان کے متعلقہ سفارت خانوں نے یمنی حکام سے رابطہ قائم کیا تاکہ جہاز کے عملے کی خیریت کو یقینی بنایا جاسکے اور جہاز کو دوبارہ روانہ کرنے کے اقدامات کیے جاسکیں۔
ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستانی سفارتی مشنز نے عملے کے اہل خانہ سے مسلسل رابطہ رکھا اور انہیں تازہ صورتحال سے آگاہ کرتے رہے آج یہ ایل پی جی ٹینکر بندرگاہ سے روانہ ہو چکا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ جہاز یمن کے پانیوں سے نکل رہا ہے، جہاز پر موجود تمام عملہ بشمول پاکستانی شہری محفوظ اور خیریت سے ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان ایل پی جی ٹینکر نے کہا ہے کہ یمن کے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔