یورینیئم افزودگی کے معاملے پر شفاف طریقہ اختیار کرنے کو تیار ہیں، ایرانی صدر
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
یورینیئم افزودگی کے معاملے پر شفاف طریقہ اختیار کرنے کو تیار ہیں، ایرانی صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 28 September, 2025 سب نیوز
تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران انتہائی افزودہ یورینیئم کے معاملے پر شفاف طریقہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کا ایٹمی عدم پھیلاؤ معاہدے (NPT) سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان بداعتمادی کی دیوار بہت بلند ہے۔
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ان کا ملک اپنی ایٹمی سرگرمیوں کو عالمی قوانین کے تحت شفاف بنانے پر تیار ہے، لیکن دباؤ اور دھمکیوں کو قبول نہیں کرے گا۔
یاد رہے کہ اس سے چند روز قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ امریکا سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں اور ایران یورینیئم کی افزودگی ترک نہیں کرے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایشیا کپ: بھارت کیخلاف بڑے ٹاکرے کےلئے پاکستانی ٹیم فائنل، صائم ایوب کے متعلق بڑی خبر آگئی ایشیا کپ: بھارت کیخلاف بڑے ٹاکرے کےلئے پاکستانی ٹیم فائنل، صائم ایوب کے متعلق بڑی خبر آگئی تامل ناڈو میں تھلاپتی وجے کی ریلی میں بھگدڑ مچنے سے 36 افراد ہلاک پاکستان فٹ بال فیڈریشن کاقومی ٹیم کے 2 سابق کپتانوں کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ پنجاب کام کررہا ہے باقی لوگ تنقید کررہے ہیں، تنقید کرنے والے بھی کچھ کام کرلیں: مریم نواز خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھی خاتون کون ہیں؟ پتا چل گیا حکومت خیبرپختونخوا صوبے میں آپریشن کی حامی نہیں، گنڈاپور کا پشاور میں جلسے سے خطابCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایرانی صدر
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔