ظفران ممدانی جیتے تو نیویارک کو وفاقی امداد بند کر دوں گا، امریکی صدر کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاکہنا ہےکہ اگر ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدوار ظفران ممدانی میئر بن گئے تو وفاقی امداد معطل کر دی جائے گی۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق ٹرمپ نے کہا کہ ممدانی نیویارک کے لیے سب سے بڑے مسائل کھڑے کریں گے اور انہیں وفاقی وسائل نہیں ملیں گے تاکہ وہ اپنے جعلی کمیونسٹ وعدے پورے نہ کر سکیں، انہوں نے ممدانی کو غلط طور پرخود ساختہ کمیونسٹ بھی قرار دیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر ممدانی جیت گئے تو یہ ریپبلکن پارٹی کے لیے سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہوگی۔
دوسری جانب ممدانی نے جوابی ردعمل دیتے ہوئے ڈیموکریسی ناؤ سے گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ دراصل سابق گورنر اینڈریو کومو کے لیے میدان صاف کرنا چاہتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ جانتے ہیں کہ اینڈریو کومو ان کے ایجنڈے کی راہ ہموار کریں گے، اسی لیے وہ انہیں آگے لانا چاہتے ہیں۔
ممدانی نے کہا کہ ان کی مہم کا فرق یہ ہے کہ وہ نیویارک کے عوام کو مقدم رکھتے ہیں جبکہ دیگر امیدوار ٹرمپ یا بڑے سرمایہ کاروں پر انحصار کرتے ہیں۔
خیال رہےکہ صدر ٹرمپ پر یہ الزام پہلے بھی عائد ہوتا رہا ہے کہ وہ وفاقی امداد میں ریپبلکن ریاستوں کو فوقیت دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ موجودہ میئر ایرک ایڈمز، جو ٹرمپ کے قریب سمجھے جاتے ہیں،انہوں نے گزشتہ روز باضابطہ طور پر دوبارہ انتخاب کی دوڑ سے دستبردار ہو نےکا اعلان کی تھا۔
یاد رہےکہ نیویارک سٹی کا میئر انتخاب 4 نومبر 2025 کو ہوگا، جس میں تازہ ترین سروے کے مطابق ظفران ممدانی کو دوہرے ہندسوں کی برتری حاصل ہےجب کہ ان کے قریب ترین حریف اینڈریو کومو ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔