اسرائیلی وزیراعظم نے میرے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے پر اتفاق کرلیا، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ عرب اور مسلم ممالک غزہ کو غیر عسکری زون بنانے پر متفق ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ غزہ کا ایک نیا عبوری انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا اور تمام فریقین اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کے لیے ایک متفقہ ٹائم لائن طے کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں غزہ جنگ بندی کے حوالے سے بڑے اعلانات کیے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ میں قیام امن کے لیے میرے 20 نکاتی امن منصوبے پر رضامندی ظاہر کردی۔ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ جنگ بندی کے لیے میری تجویز کو غور سے سنا اور اس سے اتفاق کیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ اگر حماس بھی اس 20 نکاتی منصوبے کو قبول کرلیتی ہے تو تمام اسرائیلی قیدی رہا ہو جائیں گے۔
امریکی صدر کی حماس کو دھمکی
صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ حماس ایسا کرنے کو تیار ہے، لیکن انھیں ایسا کرنے میں 72 گھنٹے سے زیادہ کا وقت نہیں لگنا چاہیئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے یہ تجویز نہ مانی تو اسرائیل کے پاس ملٹری طاقت استعمال کرنے کا پورا حق ہوگا اور امریکا اس کی مدد کرے گا۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر تمام اسرائیلی قیدی رہا ہوگئے تو غزہ جنگ خود بخود اور فوراً ہی ختم ہو جائے گی۔
عرب دنیا غزہ کو غیر عسکری زون بنانے پر متفق
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ عرب اور مسلم ممالک غزہ کو غیر عسکری زون بنانے پر متفق ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ غزہ کا ایک نیا عبوری انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا اور تمام فریقین اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کے لیے ایک متفقہ ٹائم لائن طے کریں گے۔
ٹرمپ بورڈ آف پیس کے سربراہ ہوں گے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ کی بحالی اور نگرانی کے لیے نیا بین الاقوامی ادارہ "بورڈ آف پیس" بنایا جائے گا، جس میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سمیت دیگر شخصیات شامل ہوں گی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ ادارہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے فریم ورک تیار کرے گا اور فنڈنگ کا انتظام سنبھالے گا، جب تک فلسطینی اتھارٹی اصلاحاتی پروگرام مکمل نہیں کر لیتی۔ نیا حکومتی ڈھانچہ فلسطینیوں اور عالمی ماہرین پر مشتمل ہوگا۔ امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی تعمیرِ نو اور نگرانی کے لیے قائم کیے جانے والے عبوری "بورڈ آف پیس" کے سربراہی کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ عرب دنیا اور اسرائیل سمیت تمام فریقین نے ان سے یہ ذمہ داری سنبھالنے کی درخواست کی۔ امریکی صدر کے بقول: یقین کریں، میں بہت مصروف ہوں، لیکن پھر بھی میں نے یہ ذمہ داری قبول کی۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ یہ معاہدہ غزہ میں دیرپا امن قائم کرنے اور خطے کو مزید عدم استحکام سے بچانے کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔
اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ابراہام معاہدوں میں ایران بھی شامل ہوگا
امریکی صدر نے ابراہیم معاہدوں کو خطے میں امن کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں ایران بھی اس کا حصہ بن سکتا ہے۔ یاد رہے کہ 2020ء میں طے پانے والے ابراہیم معاہدوں کے تحت متحدہ عرب امارات سمیت کئی عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ کہا ہے کہ کے لیے گا اور
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔