پیپلزپارٹی اور کراچی کی تباہی!
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی آج تباہی اور بدانتظامی کی علامت بن چکا ہے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے بجا طور پر کہا ہے کہ اس وقت پورا شہر بدترین حالات سے گزر رہا ہے، اور اس تباہی کی اصل ذمے دار پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت ہے جس نے اقتدار کو عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کا ذریعہ بنایا۔ انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا۔ فارم 47 اور فارم 13 میں ہیرا پھیری کر کے اصل نمائندوں کو شکست دلوائی گئی اور مسترد شدہ افراد کو مسلط کیا گیا۔ یہ وہ جڑ ہے جس نے کراچی کو موجودہ بحران میں دھکیلا۔ جب عوام کی رائے کا احترام نہ ہو تو نہ مسائل حل ہوتے ہیں اور نہ کوئی نظام درست چل سکتا ہے۔ منعم ظفر خان نے درست کہا کہ جب 3200 ووٹ لینے والے کو 32 ہزار کا مالک بنا دیا جائے تو پھر عوام کی مشکلات کون سمجھے گا؟ کراچی کی تباہی کا سب سے بڑا ثبوت بدترین بلدیاتی نظام اور صوبائی حکومت کی نااہلی ہے۔ ریڈ لائن منصوبہ تعطل کا شکار ہے، سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں، پانی، صفائی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے زیر اثر میئر بے بسی اور ناکامی کی علامت بنے ہوئے ہیں۔ عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کر کے ان پر قبضہ جما لیا گیا ہے۔ اس کے برعکس جماعت اسلامی نے ہمیشہ خدمت کی سیاست کی ہے۔ چاہے کورونا وبا کے ایام ہوں، جب سب اپنے گھروں میں محفوظ بیٹھے تھے، یا پھر شہر کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی تعمیر کی مہم، جماعت اسلامی اور اس کے رضاکار ہر محاذ پر موجود رہے۔ کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ جب عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان جیسے دیانتدار میئر شہر کی باگ ڈور سنبھالتے تھے تو ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے۔ آج بھی جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے اختیارات کی کمی کے باوجود اپنی مدد آپ کے تحت محلے اور یونین کونسل کی سطح پر کام کر رہے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ کراچی کے عوام مایوسی کے اندھیروں سے نکلیں اور اپنے شہر کے حقیقی خیرخواہوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں