فرسودہ نظام نے لوگوں کا جینا محال کردیا، ہائبرڈ نظام ختم کرکے دم لیں گے
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
لاہور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 29 ستمبر 2025ء ) نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے لاہور میں ہونے والے اجتماع عام کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس میں شرکت کی، مختلف کمیٹیوں کے سربراہان کو ہدایات جاری کیں۔ اجلاس میں امرائے صوبہ جاوید قصوری، ڈاکٹر طارق سلیم، امیر لاہور ضیاء الدین انصاری، امیر جماعت کے معاون خصوصی عمیر ادریس، سلمان بلوچ، رشید احمد اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔
نائب امیر جماعت نے کہا کہ یہ اجتماع عام تاریخ ساز ہوگا۔ اس کا بنیادی موضوع بدلو اس نظام کو ہوگا۔ لیاقت بلوچ نے کہا درحقیقت آئین سے انحراف اور فرسودہ نظام نے لوگوں کا جینا محال بنا رکھا ہے۔ یہ اجتماع عام تبدیلی کی بنیاد بنے گا۔(جاری ہے)
جماعت کے رہنما عوام کو بڑی تعداد میں اس اجتماع عام میں شریک کرنے اور پھر اس میں سہولتیں بہم پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔
دریں اثنا لیاقت بلوچ نے اسلام آباد میں سابق وفاقی سیکرٹری خزانہ وقار مسعود کے انتقال اور سابق وفاقی سیکرٹری و سابق وفاقی محتسب سیّد طاہر شہباز کی اہلیہ کے انتقال پر اہل خانہ سے تعزیت اور مرحومین کی مغفرت کی دعا کی۔ راولپنڈی میں“بنو قابل”انتظامی کمیٹی کے ساتھ مشاورتی نشست اور معروف عالمِ دین، اتحاد اُمت کے داعی، مجاہدِ ختمِ نبوتؐ مولانا عبدالجلیل نقشبندیؒ کی خدمات کو خراجِ تحسین اور دعائے مغفرت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دُنیا بھر کے انسانوں کو امن، سلامتی، عزت، وقار، ترقی و استحکام اور باہمی احترام کا نظام صرف نظامِ مصطفٰیﷺ سے ہی مِل سکتا ہے۔ اللہ کے دین سے بغاوت اور اُسوہِ رسول اللہؐ سے بغاوت و انحراف کرکے انسانوں پر انسانوں کے نظام اور حاکمیت مسلّط کرنے کے تمام نظام ناکام ہوگئے۔ دُنیا کو امن و سُکون کا گہوارہ بنانے کے لیے دامنِ مصطفٰیﷺ سے جُڑنا ہوگا۔ منبر و محراب، علماء و مشائخ، مساجد و مدارس اور امام بارگاہوں سے نفرتوں، تعصبات، دِل آزاری پر مبنی پیغامات کا خاتمہ کرکے عامۃ الناس کے اخلاق، تہذیب، خاندانی نظام، خواتین اور نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ کا عظیم اسلامی انسانی اخلاقی فریضہ ادا کیا جائے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان کی وحدت و سلامتی، اندرونی استحکام کے لیے قرآن و سُنت کی پابندی، آئینِ پاکستان کے مکمل نفاذ اور عدل و انصاف کی فراہمی کے لیے آزاد، دیانت دار، بااعتماد عدلیہ ناگزیر ہے۔ آئین، جمہوریت، پارلیمانی نظام سے متصادم کوئی بھی نظام سطحی، عارضی اور مخصوص گروہوں کی وقتی بالادستی تو قائم کرسکتا ہے لیکن نظام اور وحدت کی جڑیں کٹ جاتی ہیں۔ 78 سال سے مسلّط کردہ ہائبرڈ نظام کا ڈاکٹرائن ناکام اور زہرآلود ہے۔ ریاستی طاقت سے سِول نظام، تعلیم و صحت کا نظام، معیشت، صنعت، سرمایہ کاری کا نظام چلانا یا مسلّط کرنا بڑے نقصانات کا باعث بنے گا۔ 1958ء سے 1970ء تک فوجی بالادستی کا ہائبرڈ نظام پاکستان کی تقسیم کا باعث بن گیا، جس کا نتیجہ ہے کہ آج تک نفرتوں اور بے اعتمادی کا ماحول ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ پارلیمانی نظام کی نمائندہ قوتیں اور سِول-ملٹری اسٹیبلشمنٹ حالات کا ادراک کریں، قومی ترجیحات پر قومی ڈائیلاگ کے ذریعے ملک کو درپیش اندرونی بحرانوں کے خاتمہ کا انتظام کیا جائے۔ عالمی معاہدوں، عالمی قوتوں سے ملاقاتوں سے متعلق پوری قوم کو بے خبر رکھنے کی پالیسی قومی یکجہتی اور ملکی استحکام کے لیے تباہ کُن ہے، ملک و قوم کی تقدیر سے متعلق تمام قومی و بین الاقوامی فیصلوں سے قوم کو آگاہی دی جائے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے لیاقت بلوچ نے کے لیے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔