Jasarat News:
2026-07-24@08:15:42 GMT

قومی زندگی کی تباہی و بربادی کا ماتم

اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT

قومی زندگی کی تباہی و بربادی کا ماتم

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جدید دنیا کے اکثر حکمران بدترین ہیں، مگر پاکستان کے حکمرانوں سے بدترین حکمرانوں کا تصور محال ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا۔ اس کی پشت پر ریاستِ مدینہ اور خلافتِ راشدہ کا تجربہ تھا۔ پاکستان کا نظریہ غیر معمولی تھا۔ اس نے محمد علی جناح کو قائداعظم بنایا تھا۔ اس نے برصغیر میں مسلمانوں کی بھیڑ کو قوم میں ڈھالا تھا۔ اس نے پاکستان کو تاریخ کے عدم سے وجود میں لاکر دکھادیا۔ ایسا نظریہ پاکستان کو عہدِ جدید کی بڑی طاقت بنا کر ابھار سکتا تھا، مگر بدقسمتی سے قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد پاکستان کو جو فوجی اور سول حکمران میسر آئے انہوں نے پاکستان کو اپنی پستی کا عکس بناکر رکھ دیا۔ ان حکمرانوں کے ’’کارنامے‘‘ کو ایک فقرے میں بیان کرنا ہو تو کہا جائے گا کہ ان حکمرانوں نے پاکستانی قوم کو نہ دین دیا، نہ دنیا دی۔ ان حکمرانوں نے قوم کو اردو زبان کا محاورہ بناکر رکھ دیا ہے۔ محاورہ یہ ہے ’’دھوبی کا کتا، گھر کا نہ گھاٹ کا‘‘۔ ہم ریاستِ مدینہ اور خلافتِ راشدہ کے وارث تو کیا، حقیقی اور اچھے معنوں میں دنیا پرست بھی نہیں بن سکے۔ سرسید مسلمانوں کی ترقی کا جو فارمولا بتایا کرتے تھے وہ یہ تھا ’’ایک ہاتھ میں قرآن، دوسرے ہاتھ میں سائنس، اور سر پر لاالٰہ الااللہ کا تاج‘‘۔ مگر ہمارے حکمران طبقے نے قوم کے ساتھ عملاً جو کچھ کیا ہے وہ یہ ہے ’’ایک ہاتھ میں کشکول، دوسرے ہاتھ میں خواری اور سر پر جہالت کا تاج‘‘۔

مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے بڑا خواب یہ ہے کہ مسلم معاشرہ ’’خدا مرکز‘‘ یا God Centric زندگی بسر کرے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معاشرہ اور ریاست تخلیق کی تھی اُس کا امتیازی وصف یہی تھا۔ یہ ایک خدا مرکز معاشرہ اور خدا مرکز ریاست تھی۔ مسلمان کی ایک پہچان یہ ہے کہ اسے دیکھ کر خدا یاد آجائے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تخلیق کیا ہوا معاشرہ ایسا تھا کہ اُس کے ہر شخص کو دیکھ کر خدا یاد آجاتا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک تک مسلمانوں کے پاس دنیا نہیں تھی، مگر ان کی آخرت محفوظ اور بہترین تھی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میسر تھی، اور اس صحبت کا اثر یہ تھا کہ صحابہ کو جنت اور دوزخ سامنے نظر آتی تھیں۔ صحابہ میں سے کون تھا جو اللہ اور اس کے رسولؐ پر فدا نہیں تھا! صحابہ کی فداکاری کا یہ عالم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے غزوۂ بدر میں 313 صحابہ کو ایک ہزار کے لشکر جرار کے سامنے کھڑا کردیا، مگر ان کے پائے استقامت میں رتی برابر لغزش نہ آئی۔ غزوۂ احد میں نظم و ضبط کی ایک معمولی غلطی سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں مسلمانوں کو شکست ہوگئی، مگر مسلمان اپنے خدا، اپنے رسول اور اپنے دین سے چمٹے رہے۔ حضرت عائشہؓ کے بیان کے مطابق فتح خیبر تک مسلمانوں کی معاشی حالت ایسی تھی کہ حضرت عائشہؓ کے بقول ہم کھجور کھاتے تھے اور پانی پیتے تھے، مگر حضرت عمرؓ کے زمانے تک آتے آتے مسلمان وقت کی دو سپر پاورز کو تاراج کرچکے تھے اور مسلمانوں کے پاس مالی وسائل کی فراوانی ہوگئی تھی۔ یہ دین و دنیا کی طاقت کے امتزاج کا ایسا نمونہ تھا، انسانی تاریخ جس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریاستِ مدینہ اور خلافتِ راشدہ کا تجربہ بتاتا ہے کہ اسلامی ریاست ایک سطح پر خدا مرکز تھی، دوسری سطح پر رسول مرکز تھی، تیسری سطح پر قرآن مرکز تھی، چوتھی سطح پر علم مرکز تھی، پانچویں سطح پر تقویٰ مرکز تھی۔ حضرت عمرؓ کی فلاحی ریاست کا ماڈل اتنا غیر معمولی تھا کہ اسے جزوی طور پر سہی، یورپ تک نے اپنایا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ان تمام آدرشوں کو اپنانا تھا۔ مگر پاکستان کو ایسے پست مزاج جرنیل اور سول حکمران میسر آئے کہ انہوں نے ریاست مدینہ اور خلافتِ راشدہ کے ماڈل کی طرف دیکھا تک نہیں۔ خیر ریاستِ مدینہ اور خلافتِ راشدہ تو عظیم تجربات تھے، ہمارے حکمرانوں نے تو برصغیر میں مغل سلطنت تک کی تقلید نہیں کی۔ مغرب کے ممتاز مؤرخ ولیم ڈیل ریمپل نے اپنی کتاب ’’دی انارکی‘‘ میں لکھا ہے کہ انگریزوں کی آمد سے قبل برصغیر دنیا کی مجموعی پیداوار یا گلوبل جی ڈی پی کا 25 فیصد پیدا کرتا تھا، جب انگریز یہاں سے گئے تو برصغیر عالمی پیداوار کا ساڑھے چار فیصد پیدا کررہا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انگریز برصغیر کی مسلم ریاست کی ساری دولت لوٹ کر لے گئے۔ ہندوستان کی ممتاز محقق اتسا پٹنائک کے مطابق انگریزوں نے برصغیر سے 45 ہزار ارب ڈالر لوٹے۔ پاکستان کے حکمران چاہتے تو مغل سلطنت کو بھی اپنے لیے نمونہ بنا سکتے تھے۔ بلاشبہ یہ صرف مادی ترقی کا نمونہ ہوتا، مگر پاکستان کے حکمرانوں کی پست فطرت نے انہیں مغل سلطنت کی بھی تقلید نہ کرنے دی۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اصولوں کے ساتھ انسان کے تعلق کی دو ہی صورتیں ہوتی ہیں، یا تو انسان اصولوں کی سطح تک اٹھ جاتا ہے، یا پھر وہ اصولوں کو اپنی پست سطح پر گھسیٹ لاتا ہے اور اصولوں کی تذلیل کا باعث بنتا ہے۔ پاکستان کے حکمران طبقے نے یہی کیا۔ اس نے پاکستان کی پشت پر موجود عظیم آدرشوں پر تھوک دیا۔ انہیں پامال کردیا۔

بلال غوری ملک کے معروف کالم نگار ہیں، انہوں نے ملک کی زراعت کی تباہی کے حوالے سے کیا لکھا، انہی کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے:

(روزنامہ جنگ، 23 فروری 2023ء)

ایک وقت وہ تھا جب پی آئی اے دنیا کی بڑی ایئر لائنز میں سے ایک تھی۔ اس ایئرلائن کا نعرہ تھا: اس کے ساتھ عظیم لوگ سفر کرتے ہیں۔ پی آئی اے نے دنیا کی ایک درجن سے زائد ایئرلائنز کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا۔ بھارت تک ہماری ایئرلائن کو حیرت اور ہیبت کے ساتھ دیکھا کرتا تھا، مگر پاکستان کے حکمرانوں نے پی آئی اے کو بھی تباہ کر ڈالا۔ اب کیا صورت حال ہے جاوید چودھری کے الفاظ میں ملاحظہ فرمایئے۔ لکھتے ہیں:

’’ ائیر انڈیا بھارت کی 91سال پرانی ائیرلائن ہے، یہ کمپنی رتن ٹاٹا نے 1932ء میں بنائی تھی، تقسیم کے بعد حکومت نے اس پر قبضہ کرلیا اور یہ اسے پی آئی اے کی طرح چلاتی رہی، لیکن پھر 28 جنوری 2022ء کو ٹاٹا گروپ نے سوا دو بلین ڈالر میں ائیر انڈیا دوبارہ خرید لی اور صرف ایک سال میں یعنی 14 فروری 2023ء کو سول ایوی ایشن کی تاریخ کا سب سے بڑا دھماکا کردیا۔ ائیر انڈیا نے 470 نئے جہازوں کا آرڈر دے دیا، ان طیاروں میں 210 ائیر بس (اے 320 / 321 نیو)، 190 بوئنگ 733 میکس، 40 ائیر بس (اے 350 ایس)،20 بوئنگ (787 ایس) اور 10 بوئنگ (ایس 777-9) شامل ہیں۔

یہ ایوی ایشن انڈسٹری کی آج تک کی سب سے بڑی ڈیل ہے، اس کی مالیت 60 بلین ڈالر ہے، اور یہ اس ملک میں ہورہا ہے جو 1990ء کی دہائی تک پاکستان کی ترقی کو حیرت سے دیکھتا تھا۔

آپ یہ خبر پڑھنے کے بعد ایک لمحے کے لیے رکیے اور سوچیے آج انڈیا کہاں چلا گیا اور ہم کہاں آگئے ہیں؟ ہم ڈیڑھ بلین ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کے سامنے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں جب کہ بھارت میں ایک کمپنی 60 بلین ڈالر کی ڈیل کررہی ہے اور امریکی صدر جوبائیڈن، فرنچ صدرایمانویل میکرون اور برطانوی وزیراعظم رشی سوناک بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو مبارک باد پیش کررہے ہیں۔

بھارت اس ڈیل کے ساتھ ساتھ دبئی اور دوحہ اسٹینڈرڈ کے 80 نئے ایئرپورٹس بھی بنا رہا ہے جس کے بعد انڈیا ایشیا میں سول ایوی ایشن کا سب سے بڑا مرکز بن جائے گا، یہ چین کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا، ایئر انڈیا سے سالانہ 7 کروڑ مسافر دنیا جہاں کی سیر کریں گے۔

آپ دوسری بار رکیے اور سوچیے کیا ہم آج ائیر انڈیا کو پی آئی اے کے ساتھ کمپیئر کرسکتے ہیں؟ اور اگر کرتے ہیں تو دونوں میں کتنا فرق ہوگا؟اگلا سوال: بھارت اور ہم میں کیا فرق ہے؟کیا یہ سچ نہیں ہے ہمارا ڈی این اے بھی ایک ہے۔ ہماری زبان، کھانوں، لباس، کلچر اور رہن سہن میں بھی کوئی فرق نہیں۔ گرمی، سردی، گردوغبار، رویّے، نفرت اور مار دھاڑ بھی ایک جیسی ہے اور ہم مصالحے بھی ایک جیسے استعمال کرتے ہیں، لیکن وہ آگے دوڑ رہے ہیں اور ہم پیچھے، آخر کیوں؟ اور تیسرا سوال کیا اس ملک میں کوئی شخص قومی زوال کی وجوہات پر غور کررہا ہے؟ اور کیا ہم رک کر، ٹھیر کر اور سانس لے کر اپنی غلطیوں کا اعتراف کررہے ہیں؟

اس کا سیدھا سادا جواب ہے ہرگز نہیں، ہم اگر آج بھی سوچ سمجھ رہے ہوتے تو شاید زوال کی چٹان سے پھسلنے کا یہ سلسلہ رک جاتا، لیکن جب قوموں کی مت ماری جاتی ہے تو پھر انھیں دھوپ میں پڑی حقیقتیں بھی دکھائی نہیں دیتیں، ہم اس کی بدترین مثال ہیں۔‘‘

(روزنامہ ایکسپریس، 23 فروری 2023ء)

اشفاق اللہ جان ڈاگیوال میاں نوازشریف اور نواز لیگ کے پرستاروں میں سے ہیں مگر ہمارے حکمران طبقے نے ملک پر جو معاشی تباہی مسلط کی ہے اور مہنگائی کا جو سونامی تخلیق کیا ہے اُس نے اشفاق اللہ جان ڈاگیوال کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے ’’اسحاق ڈار کا عام آدمی‘‘ کے عنوان سے کالم میں لکھا:

’’پاکستان کا معاشی بحران اب انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع ہوچکا ہے، ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے یہ ملک غریبوں کا قبرستان بننے جارہا ہے۔

آج ہمارے حکمرانوں کے دلوں سے خوفِ خدا ختم ہوچکا ہے۔ اپنی معیشت کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیں گے پھر ہمارے ساتھ یہی کچھ ہونا تھا جو آج ہورہا ہے۔ میں کسی ایک حکومت کی بات نہیں کررہا۔ پچھلے 34 سال سے ہم مسلسل آئی ایم ایف کی غلامی میں ہیں۔

جنرل ضیا الحق کے بعد اس ملک میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت آئی اور ہم آئی ایم ایف کے دروازے پر پہنچ گئے۔ اُس وقت سے آج تک ہم پوری طرح آئی ایم ایف کی غلامی میں ہیں۔ درمیان میں پرویزمشرف دور میں 2004ء سے 2008ء تک ہم نے آئی ایم ایف سے جان چھڑا لی تھی، لیکن اس کے بعد پھر پیپلز پارٹی کی حکومت آئی اور ہم دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس پہنچ گئے۔ اس وقت ہم آئی ایم ایف کے جس پروگرام میں چل رہے ہیں اس کی ذمے دار عمران خان کی حکومت ہے جس نے آئی ایم ایف کی وہ شرائط تسلیم کیں جو اس ملک اور اس ملک کے عوام کے ساتھ بہت بڑا ظلم تھا۔ پھر عمران خان ان شرائط سے پیچھے ہٹا جس کی وجہ سے آئی ایم ایف ہم سے خفا ہوا اور آج جب ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے آئی ایم ایف کے پروگرام کی اشد ضرورت ہے وہ ناک سے لکیریں نکلوا رہا ہے جس کا لامحالہ ملبہ عوام پر گررہا ہے۔

موجودہ حکومت سے بھی معاملات نہیں سنبھل رہے۔ بدترین معاشی صورت حال کو سنبھالنا اسحاق ڈار جیسے معیشت کے ارسطو کے بس کی بات بھی نہیں رہی۔ مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا، لمحۂ موجود میں اس کی شرح 30فیصد سے بھی تجاوز کرچکی ہے، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔

یہ ہمارے اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ حکومت کے اپنے اعداد و شمار ہیں۔ ادارہ شماریات ہفتہ وار مہنگائی کے اعداد و شمار جاری کرتا ہے۔ اس ادارے نے گزشتہ ایک ہفتے کے جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں ان کے مطابق 24اشیا کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات، بجلی، پیاز، لہسن، انڈے، دالیں، چاول، چینی، گھی، کوکنگ آئل، گھریلو سلنڈر، دودھ، دہی، چائے کی پتی وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ وہ اشیا ہیں جو روزمرہ استعمال ہونے والی بنیادی چیزیں ہیں، ان میں سے ایک بھی لگژری آئٹم نہیں جسے عیاشی کے لیے استعمال کیا جائے۔

اب حکومت نے آئی ایم ایف کی فرمائش پر منی بجٹ پیش کردیا ہے۔ ابھی بجٹ پاس نہیں ہوا لیکن مارکیٹ میں اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوچکا ہے۔ ملک میں گورننس نام کی کوئی شے نظر نہیں آرہی، مارکیٹ مکمل طور پر آزاد ہے، حکومت قیمتیں بڑھائے یا نہ بڑھائے، ذخیرہ اندوز روز قیمتوں میں اضافہ کررہے ہیں۔

صنعتیں تیزی سے بند ہورہی ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، بیرونِ ملک سے خام مال منگوانے کے لیے ڈالر موجود نہیں، دنیا میں کوئی ہماری مدد کرنے کو تیار نہیں۔ مگر اسحاق ڈار صاحب فرما رہے ہیںکہ عام آدمی متاثر نہیں ہوگا۔ پتا نہیں عام آدمی سے کیا مراد ہے! اسحاق ڈار صاحب شاید اپنے اور شریف خاندان کے افراد کو عام آدمی سمجھ رہے ہیں۔

(روزنامہ ایکسپریس، 23 فروری 2023ء)

کہنے کو پاکستان کو آزاد ہوئے 75 سال ہوگئے ہیں، مگر پاکستان کے حکمران طبقے نے قوم پر اب تک عہدِ غلامی کی نفسیات اور ورثے کو مسلط کیا ہوا ہے۔ خورشید ندیم نے اپنے کالم میں اس نفسیات اور اس ورثے کے ایک پہلو پر کلام کیا ہے۔ انہوں نے اپنے کالم میں اس حوالے سے کیا لکھا ہے، انہی کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے:

’’آج جسے ہم مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کہتے ہیں، یہ دراصل وہ قانون ہے جو انگریزوں نے 1860ء میں یہاں نافذ کیا۔ فوجداری قانون کی دوسری دستاویز، مجموعہ ضابطۂ فوجداری ہے جو1898ء میں نافذ ہوا۔ ہماری عدالتیں آج بھی اس کے تحت فیصلے کرتی ہیں۔ یہی نہیں، ضابطۂ دیوانی بھی وہی ہے جو 1908ء میں انگریزوں نے نافذ کیا تھا۔ سب سے سنگین معاملہ ’’پولیس ایکٹ‘‘ کا ہے۔ 1860ء میں انگریزوں نے ایک پولیس کمیشن بنایا اور اس کی سفارشات کی بنیاد پر یہاں ایک پولیس ایکٹ نافذ ہوا۔ چند جزوی تبدیلیوں کے ساتھ آج بھی اسی قانون کی حکمرانی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ پولیس کا یہ نظام، انگریزوں نے ’’آئرش کانسٹیبلری ‘‘کے ڈھانچے پر اٹھایا۔ یہ کانسٹیبلری آئرلینڈ کی جنگِ آزادی کو کچلنے کے لیے بنائی گئی تھی۔

ایک قانون‘ ممکن ہے ظاہری صورت میں کسی تبدیلی کا تقاضا نہ کرتا ہو لیکن دراصل یہ روحِ قانون ہے جس کو سمجھنا لازم ہے۔ قانون اسی روح کے لیے بدن اور حفاظت کا کام کرتا ہے۔ جب ہم نے اس قانون کو اس کی روح کے ساتھ قبول کرلیا تو انگریزوں کے جانے کے بعد بھی اس کے اثرات وہی تھے جو انگریزوں کی موجودگی میں مرتب ہوئے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب حکمران طبقہ مقامی لوگوں پر مشتمل ہے۔ ان کے نام تو عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں لیکن دراصل وہ ایک حاکم قوم کے نمائندے ہیں اور عوام کو اپنا محکوم سمجھتے ہیں۔

آج تھانہ عام آدمی کے لیے خوف کا گھر ہے۔ افسر ایک ایسی مخلوق ہے عام پاکستانی کا مقدر جس کی جنبشِ قلم کا محتاج ہے۔ عدالت کا تصور ہی اس کے وجود میں سنسنی پھیلا دیتا ہے۔ اسی طرح اہلِ سیاست اور فوج بھی عوام سے دور بسنے والی مخلوقات ہیں جن کا عام آدمی سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ سب اس وجہ سے ہے کہ ہمارا ریاستی نظام انگریزوں کا دیا ہوا ہے جو دو طبقات کا نمائندہ تھا‘‘۔

(روزنامہ دنیا، 23 فروری 2023ء)

یہ پاکستان کی تاریخ کی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقے نے ملک و قوم کو کبھی آزادی کا حقیقی احساس نہیں ہونے دیا۔ اس نے معاشرے پر ایسے سیاسی، سماجی اور معاشی جبر کو مسلط رکھا جو آزادی کے ہر تصور کا مذاق اڑانے والا ہے۔

پاکستان قائم ہوگیا مگر پاکستان کے حکمران طبقے نے جاگیرداری اور برادری نظام کو جاری رکھا۔ اس حوالے سے آصف محمود نے اپنے کالم میں کیا لکھا، انہی کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے:

’’بلوچستان کے سرداری نظام کی جڑیں بھی بلوچستان کی اپنی تہذیب میں نہیں ہیں۔ اس نظام کی بنیاد انگریز نے 1876ء میں رکھی۔ اس نظام کی سفاکی کا اندازہ لگانا ہو تو ڈاکٹر عطا بخش مری کے یہ الفاظ کافی ہیں کہ ’’ سردار لا شریک ہوتا ہے‘‘۔ انگریز نے اس نظام کو یوں مستحکم کیا کہ عام آدمی کے قتل کا خوں بہا دو ہزار روپے رکھا لیکن اپنے ان وڈیروں، نوابوں کے قتل کا خوں بہا آٹھ ہزار روپے رکھا۔ یعنی نوآبادیاتی نظام کے یہ محافظ عام انسان سے چار گنا زیادہ قیمتی تھے۔ بلوچستان میں انگریزوں کے خلاف جب مزاحمت بڑھی تو انگریز نے وہاں یہ سرداری نظام متعارف کرایا۔ اپنے وفاداروں کو منصب دیے۔ لیویز کی شکل میں انہیں مسلح جتھے دیے تاکہ وہ باغیوں کو کچل سکیں۔ ان سرداروں، وڈیروں کے بچوں کو ایچی سن سے لے کر ڈیرہ دون ملٹری اکیڈمی تک تعلیم دی لیکن عام آدمی کو تعلیم سے دور رکھا۔ ساتھ ’مذہبی ٹچ‘ بھی دیا گیا کہ سردار تو اللہ کا ولی ہوتا ہے، اس کی اطاعت لازم ہے۔ سرداروں کی جھوٹی کرامات مشہور کرائی گئیں۔ غلامی کو یوں سائنسی انداز سے مسلط کیا گیا کہ آج ہم اس نظام پر بات کریں تو ہمارے بلوچ ادیب دوست بھی ’اسٹیبلشمنٹ کے سردار‘ کی مذمت کرکے ’اپنے سرداروں‘ کے حق میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ انہیں شاید یاد ہی نہیں کہ یہ ’اپنے سردار‘ بھی انگریز ہی کے مسلط کردہ تھے اور 1929ء میں یوسف عزیز مگسی نے ان نوآبادیاتی سرداروں کے خلاف ایک خفیہ مزاحمتی تحریک شروع کی جس کا نام ’انجمن اتحاد بلوچ و بلوچستان‘ تھا۔ سردار کسی کا بھی ہو، سردار ہی ہوتا ہے۔ یہ بندوبست ہی انسانیت کی توہین ہے۔

انگریز چلا گیا تو پیچھے اپنی افسر شاہی کے ساتھ ساتھ اپنے یہ جاگیردار، نواب، سردار اور وڈیرے بھی چھوڑ گیا۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ قائداعظم جلد خالقِ حقیقی سے جا ملے اور افسر شاہی اقتدار پر قابض ہوگئی اور اس نے ان جاگیرداروں، سرداروں، نوابوں اور وڈیروں کے ذریعے سماج کو اپنی گرفت میں رکھنے کے اسی نوآبادیاتی فارمولے کو جاری رکھا‘‘۔

(روزنامہ 92 نیوز،23 فروری 2023ء)

پاکستان کے حکمران طبقے سے کچھ اور کیا، ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی تک نہیں سنبھل پایا۔ کراچی میں پانی کی قلت ہے، کراچی کی سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، کراچی میں جگہ جگہ گٹر ابل رہے ہیں، کراچی کچرا کنڈی کا منظر پیش کررہا ہے، کراچی میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ عروج پر ہے۔ چند ماہ پیشتر کراچی کے تاجروں اور صنعت کاروں کے ایک وفد نے جنرل باجوہ سے ان مسائل کو حل کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کرانے کے بجائے فرمایا کہ آپ پنجاب میں صنعتیں لگائیں وہاں ساری سہولتیں موجود ہیں۔ یہ ’’ناپاک فوجیت‘‘ اور ’’ناپاک عصبیت‘‘ کی ایک مثال ہے۔ ایسی ہی مثالوں نے کبھی پاکستان کو عظیم نہیں بننے دیا۔ ایسی ہی مثالوں نے پاکستان کو دین اور دنیا کی عظمتوں سے ہمکنار نہیں ہونے دیا۔

شاہنواز فاروقی دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان کے حکمران طبقے نے مگر پاکستان کے حکمران کے الفاظ میں ملاحظہ مدینہ اور خلافت آئی ایم ایف کی آئی ایم ایف کے کا سب سے بڑا مسلمانوں کی پاکستان کو ائیر انڈیا نے پاکستان بلین ڈالر اسحاق ڈار کی تاریخ انہوں نے ہاتھ میں مرکز تھی کالم میں یہ ہے کہ ملک میں دنیا کی کے ساتھ رہے ہیں کو بھی کے بعد ہوا ہے اور ہم اس ملک کے لیے ہے اور اور اس کے پاس تھا کہ کی ایک

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی