بھارت: صحافی کی لاش دریا سے برآمد؛ پولیس کا دعویٰ حادثہ، خاندان کا الزام قتل
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 30 ستمبر 2025ء) بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والی ریاست اتراکھنڈ کی پولیس کا دعویٰ ہے کہ پرتاپ کی موت ایک حادثے میں ہوئی، جبکہ ان کی اہلیہ مسکان نے قتل کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس خبر کے بعد دھمکیاں مل رہی تھیں جو انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک مقامی ہسپتال کے بارے میں ڈالی تھی۔
صحافی ' سافٹ ٹارگیٹ‘ ہیںپریس کلب آف انڈیا کے سابق صدر اور اتراکھنڈ سے تعلق رکھنے والے صحافی اوما کانت لکھیڑا نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ایسا لگتا ہے کہ مقامی کانٹریکٹر، سرکاری افسران اور سیاست دانوں کے نیٹ ورک نے راجیو پرتاپ کو اپنے لیے خطرہ سمجھا کیونکہ وہ ان کی بدعنوانیوں کے بارے میں مسلسل لکھ رہے تھے۔
(جاری ہے)
وہ سرکاری کاموں بالخصوص ہسپتالوں اور اسکولوں کی تعمیرات میں ہونے والی بدعنوانیوں کو اجاگر کرتے رہتے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ بہت سنگین معاملہ ہے۔ لیکن یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ سن انیس سو نوے کی دہائی میں بھی ایک صحافی کو اسی طرح قتل کردیا گیا تھا۔
اوما کانت کا کہنا تھا کہ ''اس قتل میں مجرموں کو سیاسی تحفظ ضرور حاصل ہے کیونکہ مجرم صحافیوں کو سافٹ ٹارگیٹ سمجھتے ہیں۔
ان کو لگتا ہے کہ صحافی کا قتل کرنا بہت آسان ہے کیونکہ ان کا کچھ بگڑنے والا نہیں ہے۔‘‘پریس کلب آف انڈیا کے سابق صدر کا کہنا تھا کہ راجیو پرتاپ کو بے خوف اور بے لاگ صحافت کی قیمت ادا کرنی پڑی۔
ہم اس بارے میں کیا جانتے ہیں؟پولیس کے مطابق، راجیو پرتاپ کی کار اترا کاشی کے ایک دریا میں جا گری۔ کار کو 19 ستمبر کو دریا سے نکالا گیا لیکن ان کی لاش بہہ گئی تھی جو 10 دن بعد اتوار کو جوشییارہ بیراج سے ملی۔
مقامی ایس پی نے کہا، ''اہل خانہ نے ان کی موت پر الزامات عائد کیے ہیں اور ہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے منتظر ہیں تاکہ موت کی اصل وجہ سامنے آ سکے۔ بظاہر لگتا ہے کہ ان کی کار کھائی میں گری اور پھر دریا میں جا پہنچی، جو اس وقت طغیانی پر تھا۔ ہمیں واقعے سے چند منٹ پہلے کی سی سی ٹی وی فوٹیج ملی ہے جس میں وہ گاڑی میں اکیلے نظر آ رہے ہیں۔
‘‘میڈیا رپورٹس کے مطابق، راجیو پرتاپ نے اپنی اہلیہ کو بتایا تھا کہ وہ پریشان ہیں کیونکہ ہسپتال اور اسکول پر رپورٹ شائع کرنے کے بعد انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ان کی اہلیہ نے الزام لگایا کہ آخری بار رابطہ کے فوراً بعد ان کا فون بند ہو گیا اور انہیں اغوا کر لیا گیا۔
راجیو پرتاپ، جو بھارت میں صحافت کے معروف ادارے، آئی آئی ایم سی کے سابق طالب علم تھے، ایک یوٹیوب نیوز چینل "دہلی اتراکھنڈ لائیو" چلاتے تھے۔
وہ 16 ستمبر کو لاپتہ ہو گئے تھے جس کے بعد ان کی اہلیہ نے گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی۔ صحافیوں کی تنظیموں کا مطالبہصحافیوں کی متعدد تنظیموں نے راجیو پرتاپ کی موت کی فوری تحقیقات اور ان کے خاندان کے لیے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔
دہلی یونین آف جرنلسٹس کی صدر سجاتا مدھوک نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ہم ریاستی حکومت کو یاد دلاتے ہیں کہ مقامی مسائل پر رپورٹ کرنے والے صحافیوں پر حملے عام ہوتے جا رہے ہیں اور ایسے تمام معاملات کی سنجیدگی سے جانچ ضروری ہے۔ ''ہم اس پر اسرار موت کی مکمل تحقیقات اور ذمہ دار افراد کی شناخت، گرفتاری اور سزا کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘
ادارت: صلاح الدین زین
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر چار تارکین وطن کے قتل کا الزام ہے جن کی لاشیں ایک جلی ہوئی منی وین سے ملی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان چار میں سے ایک پاکستانی جبکہ تین کا تعلق افغانستان سے تھا۔اطلاعات کے مطابق پولیس کو جنوبی کالابریا کے زرعی علاقے میں ایک گاؤں کے نزدیک پیٹرول پمپ سے جلی ہوئی گاڑی ملی۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آتا ہے کہ دو افراد نے باہر سے وین کے دروازے بند کیے اور اندر کوئی مائع شے ڈال کر آگ لگا دی۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اس علاقے میں پاکستانیوں کو لے جانے والی گاڑیوں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔یہ واقعات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مقامی کھیتوں میں کام کی تقسیم اور رہائش کے حوالے سے تارکین وطن میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔منگل کے روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے تقریباً ایک بجے فائر فائٹرز کو جلتی ہوئی وین کی اطلاع ملی تھی۔آگ بجھانے کے بعد انھوں نے اندر دیکھا تو ایک خوفناک منظر تھا۔ وین میں چار جلی ہوئی لاشیں موجود تھیں۔رپورٹس کے مطابق بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج سے حاصل شواہد کی بنیاد پر دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔