UrduPoint:
2026-06-03@06:30:01 GMT

حکومت نے رات گئے پٹرول اور ڈیزل مہنگا کر دیا

اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT

حکومت نے رات گئے پٹرول اور ڈیزل مہنگا کر دیا

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 ستمبر2025ء ) حکومت نے رات گئے پٹرول اور ڈیزل مہنگا کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر عوام پر پٹرول بم گرا دیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 اکتوبر تک کیلئے اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔ حکومت نے پٹرول 4 روپے 7 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 4 روپے 4 پیسے مہنگا کر دیا۔

یوں پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 268 روپے 68 پیسے مقرر کر دی گئی جبکہ ڈیزل کی نئی فی لیٹر قیمت 276 روپے 81 پیسے پیسے مقرر کر دی گئی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 15 اکتوبر تک کیلئے ہو گا۔ اس سے قبل آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے عوام کو خوشخبری سناتے ہوئے ایل پی جی گیس کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان کردیا۔ اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں 6 روپے 70 پیسے فی کلو کمی کرتے ہوئے ماہ اکتوبر کے لیے فی کلو گیس کی قیمت 207 روپے 49 پیسے مقرر کردی۔

(جاری ہے)

حالیہ کمی کے بعد 11.

8 کلو گرام کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 2448 روپے ہوجائے گی۔ اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کا اطلاق رات بارہ بجے سے ہوگا۔ واضح رہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق ورکنگ گزشتہ روز مکمل کرلی گئی تھی جس کے تحت یکم اکتوبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک روپیہ 97 پیسے سے 4 روپے 65 پیسے فی لیٹر تک کا اضافہ ہوسکتا ہے، پیٹرول کی قیمت ایک روپیہ 97 پیسے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 2 روپے 48 پیسے فی لیٹر بڑھنے کا امکان ہے۔ بتایا گیا کہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں ایک روپیہ 76 پیسے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے 65 پیسے فی لیٹر اضافہ متوقع ہے، اوگرا قیمتوں سے متعلق ورکنگ پیٹرولیم ڈویژن کے ذریعے وزارتِ خزانہ کو ارسال کرے گی، جس کے بعد وزیراعظم کی طرف سے منظوری ملتے ہی ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں سے متعلق وزارت خزانہ باضابطہ اعلان کرے گی۔

علاوہ ازیں اس وقت حکومت عوام سے ایک لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پر کتنا ٹیکس وصول کرتی ہے؟ اس سلسلے میں پیٹرولیم ڈویژن کی دستاویز سے پتا چل گیا، پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے سامنے آنے والی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ایک لیٹر پیٹرول پر 94 روپے 89 پیسے اور ایک لیٹر ڈیزل پر 95 روپے 35 پیسے کے ٹیکس عائد ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 36 فیصد اور ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت میں 35 فیصد ٹیکس عائد ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 14روپے37 پیسے کسٹم ڈیوٹی اور 78 روپے 2 پیسے پیٹرولیم لیوی ہے، ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 50 پیسے کلائیمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں وصول کیے جارہے ہیں جب کہ فی لیٹر ڈیزل کی قیمت میں 15روپے 84 پیسے کسٹم ڈیوٹی اور 77 روپے ایک پیسے پیٹرولیم لیوی بھی ہے، ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت میں اڑھائی روپے کلائیمیٹ سپورٹ لیوی بھی شامل ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مصنوعات کی قیمتوں ایک لیٹر پیٹرول پیٹرول کی قیمت پیسے فی لیٹر ڈیزل کی قیمت کی قیمت میں لیٹر ڈیزل حکومت نے کر دیا کی نئی

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور