اسرائیلی رکاوٹوں کے باوجود صمود فلوٹیلا غزہ کی طرف رواں دواں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
اسرائیلی افواج کی مسلسل مداخلت اور گرفتاریوں کے باوجود عالمی گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ ان کا بیڑہ غزہ کی جانب اپنی پیش رفت جاری رکھے گا اور کسی بھی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔
فلوٹیلا کے ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق جمعرات کی صبح تک 13 کشتیوں کو روکا جا چکا ہے یا زبردستی ان کا رخ اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی دھاوا اور گرفتاریاں، عالمی سطح پر احتجاج بھڑک اٹھا، اٹلی میں ہڑتال کا اعلان
تاہم اب بھی 30 کشتیاں غزہ کی طرف بڑھ رہی ہیں اور اپنی منزل سے صرف 46 بحری میل کے فاصلے پر ہیں۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے بھی اپنے بیان میں غزہ کے مظلوم عوام کے لیے امداد لے جانے والے کارکنوں پر اسرائیلی حملہ ناقابلِ قبول اور کھلی بربریت قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انہوں نے فلوٹیلا میں شامل گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
Pakistan strongly condemns the dastardly attack by Israeli forces on the 40 vessel Samud Gaza flotilla, carrying over 450 humanitarian workers from 44 countries.
We hope and pray for the safety of all those who have been illegally apprehended by Israeli forces and call for their…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) October 1, 2025
اسرائیلی فوج کی کارروائیبدھ کو اسرائیلی فورسز نے کئی کشتیوں پر سوار درجنوں انسانی حقوق کے کارکنوں اور امدادی سامان کو قبضے میں لے کر انہیں ایک اسرائیلی بندرگاہ منتقل کیا۔
اس کارروائی نے اس فلوٹیلا کو عالمی سطح پر مزید نمایاں کر دیا ہے، جو غزہ پر عائد اسرائیلی ناکہ بندی کے خلاف احتجاج کی علامت بن چکا ہے۔
آسٹریلوی کارکنان کی شمولیتمیڈیا رپورٹس کے مطابق فلوٹیلا میں شامل 6 آسٹریلوی شہریوں میں ڈاکٹر بیانکا ویب پلمن بھی ہیں، جنہوں نے خطرے کے بڑھنے پر اپنی والدہ کو آخری پیغام بھیجا کہ اگر وہ مر بھی گئیٰ تو فکر نہ کریں، یہ سب سو فیصد قابلِ فخر تھا۔
ان کی والدہ نے آسٹریلوی حکومت کے ردِعمل کو ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی بیٹی کی جان گئی تو وہ حکومت کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا روکنے کا منصوبہ بے نقاب
اطلاعات کے مطابق آسٹریلوی شہری ابوبکر رفیق کو بھی اسپیکٹر نامی ایک کشتی سے حراست میں لے لیا گیا ہے، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایک اور کارکن سریا میک ایون نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے ذریعہ انسانی حقوق کے کارکنوں کی اس جدوجہد کو انسانیت کے نام پر کوشش قرار دیا ہے۔
’بھوک سے مرنے والے بچوں تک کھانا پہنچانا اور مریضوں کو دوائی دینا انسان کے روحانی فرض کا حصہ ہے۔ آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی کہ ہم نے اس وقت کیا کیا۔‘
عالمی ردِعململائیشیا کے وزیرِاعظم انور ابراہیم نے سخت الفاظ میں اسرائیلی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام قانونی ذرائع استعمال کرے گا۔
I condemn in the strongest terms Israel’s interception of the Global Sumud Flotilla. These vessels carried unarmed civilians and life-saving humanitarian supplies for Gaza, yet they were met with intimidation and coercion.
By blocking a humanitarian mission, Israel has shown… pic.twitter.com/iOPiBTM4PA
— Anwar Ibrahim (@anwaribrahim) October 1, 2025
فلوٹیلا میں شامل ملائیشین گلوکارہ زی زی کرانا نے بھی گرفتاری کے بعد ایک ویڈیو جاری کی ہے۔
فلپائن کے رہنما دریسا لِنڈنگ نے کہا کہ یہ دل توڑ دینے والا ہے کہ امن و انسانیت کے لیے امداد لے جانے والے جہازوں کو بھی نہیں بخشا گیا اور دنیا تماشائی بنی رہی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا گلوبل صمود فلوٹیلا ملائیشیا وزیر اعظم شہباز شریف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریلیا گلوبل صمود فلوٹیلا ملائیشیا وزیر اعظم شہباز شریف گلوبل صمود فلوٹیلا کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی