سیلاب زدگان کی امداد کا تنازع، پیپلز پارٹی اورن لیگ ایک پیج پرآجائیں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
ملک بھر میں حالیہ سیلابی تباہی نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا ہے، اس بحران کے تناظر میں، وفاقی حکومت اور متعلقہ صوبائی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بروقت اور شفاف امداد فراہم کریں، لیکن سب سے بڑا تنازع یہ ہے کہ امداد کا طریقۂ کار کون طے کرے۔
اسی طرح کون سے ادارے اس میں شامل ہوں؟ یہی معاملہ اب وفاقی اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے مابین کھلی کشیدگی کا باعث بن گیا ہے، آئے روز پارٹی کے سینیئر رہنما اس معاملے کو زیر بحث لاتے ہوئے ایک دوسرے کو کھل کر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بند ہونا چاہیے‘، رانا ثنا اللہ نے ایسا کیوں کہا؟
پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر کا کہنا ہے کہ ہم نے گزشتہ روز اسحاق ڈار اور رانا ثنااللہ کے سامنے اپنے تحفظات رکھے تھے، ہم نے شروع دن سے کہا تھا کہ ہم حکومت کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں گے اور کر بھی رہے ہیں لیکن ن لیگ کا رویہ ایک مسئلہ ہے۔
’ہم نے ابھی بھی اپنی حمایت جاری رکھی ہے اور ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پارٹی لیڈروں کی عزت کی جائے۔‘
ان کے مطابق اگر کوئی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا سے متعلق اعتراض کرتا ہے تو وہ ڈیٹا پیپلز پارٹی نے تیار نہیں کیا اور اس کے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: سیلاب اور گندم پر سیاست کرنے والوں کو جواب ملے گا، مریم اورنگزیب کا پیپلزپارٹی پر وار
نوید قمر نے کہا کہ ہم امداد کے لیے حکومت کو اپنا مشورہ دے رہے ہیں، اگر حکومت کو ہماری تجویز قبول نہیں ہے تو وہ طریقے سے انکار کر سکتی ہے لیکن اس طرح میڈیا میں آ کر بیان بازی نہیں کی جا سکتی۔
’جب آپ کہتے ہیں کہ میرا پانی میری مرضی تو یہ پارٹی کا مسئلہ نہیں ہے۔‘
نوید قمر نے بتایا کہ ان کی پارٹی کی اسحاق ڈار سے ملاقات میں مثبت جواب ملا ہے اور جب ن لیگ کا جواب آئے گا تو معاملات بہتر ہو جائیں گے۔
مزید پڑھیں: سیلاب متاثرین کی مالی مدد کے نظام کا فیصلہ وفاق کرے گا صوبے نہ کودیں، بی آئی ایس پی چیئرپرسن روبینہ خالد
مسلم لیگ (ن) کے رہنما بیرسٹر عقیل احمد نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی کے اتحاد کے باعث حکومت میں آئی تھی۔ ہم اپنے اتحادیوں کی قدر کرتے ہیں۔
’اگر کسی بھی قسم کا کوئی تناؤ یا اختلاف پیدا ہوتا ہے تو جیسا کہ کل مذاکرات ہوئے، اسی طرح معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ ہمارے گھر کا مسئلہ ہے اور ہم اس پر مشاورت کے بعد معاملے کو حل کر لیتے ہیں۔‘
بیرسٹر عقیل احمدکے مطابق ہر صوبہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد خودمختار ہے، ہر صوبہ اپنی ترقی کے لیے کوئی بھی منصوبہ بنا سکتا ہے۔ وفاق یا صوبہ کسی دوسرے صوبے کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ کسی بھی کام پر کتنا پیسہ خرچ کرے۔
مزید پڑھیں: ’وفاقی حکومت جواب دے‘، بلاول بھٹو کا ایک بار پھر بینظیر انکم سپورٹ کے تحت سیلاب زدگان کی مدد پر زور
’یہ صوبوں کی خودمختاری ہے۔ جہاں تک مریم نواز کے پانی سے متعلق بیان کی بات ہے تو تمام صوبوں کے اتفاق سے صوبہ اپنا اپنا حصہ استعمال کرتا ہے۔‘
بیرسٹر عقیل احمد نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک اچھا پروگرام ہے لیکن اس میں سیلاب متاثرین کا ڈیٹا درج نہیں ہے اور اس میں کچھ مسائل بھی ہیں۔
’آڈیٹر جنرل نے بھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے۔ لیکن اگر کوئی صوبہ اپنی مرضی سے کوئی نیا پروگرام شروع کر کے امداد دینا چاہتا ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔‘
مزید پڑھیں: بی آئی ایس پی یا وزیراعلیٰ کارڈ: پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون سیلاب زدگان کی امداد کے طریقے پر کیوں لڑ رہی ہیں؟
بیرسٹر عقیل احمد کے مطابق پنجاب حکومت نے ’اپنا گھر‘ اور دیگر مختلف منصوبوں کے لیے بھی ڈیٹا جمع کیا ہوا ہے، تو ایسا نہیں ہے کہ پنجاب کے پاس ڈیٹا نہیں ہے۔
’اگر پنجاب حکومت متاثرین کی زیادہ امداد کرنا چاہتی ہے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔‘
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر تو یہ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ یہ کوئی عام سا اختلاف ہے جو چند دنوں میں ختم ہو جائے گا، تاہم اب ایسا نظر نہیں آ رہا۔
مزید پڑھیں: سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو استعمال نہ کرنا غفلت ہوگی، آصفہ بھٹو
یہ معاملہ صرف امداد تک محدود نہیں بلکہ ایک طاقت کی کھینچا تانی ہے کہ حکومت میں ’فیصلہ کن کردار‘ کون ادا کرے گا۔ اگر ان اختلافات کو فوری طور پر نہ سلجھایا گیا تو آئندہ بجٹ اجلاس اور مشترکہ مفادات کونسل میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
اگر یہ اختلافات وقت پر حل نہ ہوئے تو ممکن ہے کہ امداد کی تقسیم میں تاخیر ہو اور متاثرین کو بروقت مدد نہ پہنچے۔ سیاسی طور پر، اگر پیپلز پارٹی اپنا مؤقف برقرار رکھے اور ن لیگ نہ مانے، تو اتحاد پر تناؤ بڑھ سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ سیلاب متاثرین تک امداد پہنچانے کے لیے سب سے مؤثر اور تیز ترین ذریعہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے، کیونکہ اس کا ڈیٹا بیس مضبوط اور شفاف ہے اور یہ وفاقی سطح پر غریب خاندانوں تک براہِ راست نقد امداد پہنچانے کا نظام رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی حکومت کو اقوام متحدہ سے سیلاب زدگان کی امداد کی اپیل کرنی چاہیے، وزیر اعلیٰ سندھ
پیپلز پارٹی کی قیادت کہتی ہے کہ اگر پنجاب حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ڈیٹا استعمال کرے تو امداد بہتر اور جلد پہنچ سکتی ہے۔
پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ امداد کی تقسیم اور انتظام صوبے کا داخلی معاملہ ہے اور وہ اپنی ترجیحات اور اپنے عملے کے ذریعے امداد فراہم کرے گی۔ حکومتی ترجمان نے پیپلز پارٹی کی تنقید کو سیاسی نکتہ چینی قرار دیا ہے۔
پیپلز پارٹی نے ن لیگ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ وہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ڈیٹا استعمال کرنے سے گریز کرتی ہے، جو ان کے نزدیک عوام کو بنیادی امداد پہنچانے میں تعطل ہے۔
مزید پڑھیں: بینظر انکم سپورٹ تنازعہ: شازیہ مری کا مریم نواز اور عظمیٰ بخاری کو جواب
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی دوریوں کے پیش نظر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے چیمبر میں گزشتہ روز اہم ملاقات میں اسحاق ڈار، رانا ثنا اللہ، اعظم نذیر تارڑ، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی شریک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے وزیرِاعلیٰ پنجاب کے سخت بیانات پر تحفظات کا اظہار کیا جبکہ ن لیگ نے معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
دونوں جماعتوں نے اتفاق کیا کہ اختلافات کو میڈیا کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار بیرسٹر عقیل احمد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پیپلز پارٹی ڈیٹا بیس رانا ثنا اللہ مریم نواز مسلم لیگ ن نوید قمر وزیراعلٰی پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار بیرسٹر عقیل احمد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پیپلز پارٹی ڈیٹا بیس رانا ثنا اللہ مریم نواز مسلم لیگ ن نوید قمر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بیرسٹر عقیل احمد پیپلز پارٹی اور سیلاب زدگان کی سیلاب متاثرین پنجاب حکومت مزید پڑھیں اسحاق ڈار کے مطابق حکومت کو نوید قمر مسلم لیگ کا ڈیٹا نہیں ہے کے لیے ہے اور
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔