پنجاب کو نشانہ بنانے والوں کو جواب دینا میرا کام‘ معافی نہیں مانگوں گی‘ مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب کے عوام کی تذلیل کرنے والوں کو جواب دینا میرا کام ہے، اس پر کبھی معافی نہیں مانگوں گی، شمالی اور جنوبی پنجاب کی تفریق ڈالنے والے عوام کے دوست نہیں، پنجاب کے تمام شہروں کو بند مٹھی کی طرح جوڑ کر رکھنا چاہتی ہوں۔ لاہور میں تعلیمی بورڈز کے پوزیشن ہولڈرز کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پوزیشن ہولڈرز نے پنجاب اور پاکستان کا نام روشن کیا، جس ملک میں اتنے سارے ٹاپرز ہوں اس کو کبھی زوال نہیں آسکتا، میرے پاس پنجاب میں 50 ہزار اسکول اور کروڑوں بچے پڑھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی ترقی میں نوجوانوں کا اہم کردار ہے، اس وقت پنجاب میں 80 ہزار بچے اسکالرشپس پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، سمجھتی ہوں آپ کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ضروری ہے، سوچا تھا اچھی پرفارمنس والے طلبہ کو جدید لیپ ٹاپس دوں۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے 4 سالہ دور حکومت میں من پسند افراد کو ٹھیکے دیے جاتے تھے، آج میرٹ کا راستہ نہیں کھولوں گی تو کل آپ کے اوپر کوئی سفارشی آجائے گا، آج میرٹ کو اس لیے اہمیت دے رہی ہوں کہ کل آپ کے لیے مشکلات پیدا نہ ہوں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ مریم نواز پورے پنجاب کی وزیراعلیٰ ہے، مریم نواز کیلئے کسی شہر کے لیے کوئی تفریق نہیں، آج ہر نیا منصوبہ پہلے چھوٹے شہروں سے شروع ہوتا ہے پھر بڑے شہروں میں جاتا ہے، شمالی اور جنوبی پنجاب کی تفریق ڈالنے والے آپ کے دوست نہیں، پنجاب کے تمام شہروں کو بند مٹھی کی طرح جوڑ کر رکھنا چاہتی ہوں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ سیلاب میں لیکچر دیے جا رہے تھے کہ عالمی امداد کیوں نہیں مانگتے، اب بس کر دیں، پاکستان کا ہر شخص اپنے وسائل کو ملک کے لیے استعمال کرے تو ملک کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں کے پاس یکساں وسائل ہیں، یہ بات کبھی مت ماننا کہ اس کے پاس وسائل کم اور اس کے پاس وسائل زیادہ ہیں، باقی صوبوں کے وسائل کہاں جاتے ہیں؟ مریم نواز، نوازشریف کی بیٹی ہے وہ کبھی اپنے لوگوں کو کشکول پکڑنے کا نہیں کہے گی، اپنے عوام کو کہوں گی عزت نفس پر کبھی سمجھوتا نہ کرنا، مریم نواز اگر پنجاب کے عوام کی عزت نفس کی بات نہیں کرے گی تو اور کون کرے گا،؟ اس پر مریم نواز کبھی معافی نہیں مانگے گی۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ میرا کام ہے کہ اگر کوئی پنجاب کے عوام کی تذلیل کرے تو اس کو جواب دوں، آج اس عہدے پر پہنچی ہوں تو یہ عوام کے اعتماد کے بعد والدین کی دعائیں ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ مریم نواز پنجاب کے کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔