پاکستان کا صمود فلوٹیلا کے کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ، غزہ کیلیے امداد روکنے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان نے صمود فلوٹیلا کے کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے غزہ کے لیے امداد روکنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان اسرائیل کی جانب سے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکنے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ اس فلوٹیلا میں 40 سے زائد شہری کشتیاں شامل تھیں، جن میں تقریباً 500 بین الاقوامی کارکن سوار تھے، جن کا مقصد محصور غزہ کے عوام تک انتہائی ضروری انسانی امداد پہنچانا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فلوٹیلا پر سوار کارکنوں کی غیر قانونی حراست بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس اقدام سے بے گناہ افراد کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی گئی ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ قابلِ مذمت اقدام اسرائیل کے جاری جارحانہ رویے اور غزہ کے غیر قانونی محاصرے ہی کا تسلسل ہے، جس کے باعث 20 لاکھ سے زائد فلسطینی شدید انسانی بحران کا شکار ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنا چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت بطور قابض قوت اس کی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کی جائے، غزہ کا غیر قانونی محاصرہ ختم کیا جائے، انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے، فلوٹیلا پر سوار تمام کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے اور بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے قوانین کا مکمل احترام کیا جائے۔
پاکستان نے اسرائیل کے بار بار بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر احتساب کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔
پاکستان نے فلسطینی عوام سے اپنی غیر متزلزل حمایت اور یکجہتی کا اعادہ کیا ہے اور ان کے حقِ خودارادیت اور ایک آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ریاست فلسطین کے قیام کی مکمل حمایت کی ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان بین الاقوامی پاکستان نے کی جانب سے
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز