وزیراعظم شہباز شریف بیرون ممالک کے دوروں کے بعد اسلام آباد پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم شہبازشریف بیرون ممالک کے دوروں کے بعد اسلام آباد پہنچ گئے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر اور فلسطین کواجاگر کیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ تاریخی معاہدہ بھی کیا۔
وطن واپس پہنچنے پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نورخان ایئر بیس پر وزیراعظم کا استقبال کیا۔
واضح رہے وزیراعظم شہباز شریف لندن سے واپس پاکستان روانہ ہوئے، وزیراعظم نے لندن میں اپنا چیک اپ بھی کرایا تھا، وزیراعظم شہباز شریف تین دن لندن میں موجود رہے، وزیراعظم نے اوورسیز کے مختلف وفود سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔
پی ٹی آئی نے 2014 میں بھی استعفے دئیے تھے ، پہلے بھی پارلیمنٹ میں واپس آگئے تھے،سپیکر قومی اسمبلی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔