اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 69 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کرگیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
جمعہ کے روز کاروباری ہفتے کے آخری سیشن کے پہلے نصف میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت آغاز دیکھنے میں آیا اور کے ایس ای-100 انڈیکس تاریخ میں پہلی بار 169 ہزار کی سطح عبور کر گیا۔
دوپہر 12 بجے کے قریب انڈیکس 169,316.93 پوائنٹس پر موجود تھا، جو 827.31 پوائنٹس یا 0.49 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
Market is up at midday ????
⏳ KSE 100 is positive by +836.
— Investify Pakistan (@investifypk) October 3, 2025
کاروباری سرگرمیوں میں گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، او ایم سی، پاور جنریشن اور ریفائنری سیکٹر میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔
انڈیکس کی بڑی کمپنیوں جیسے حبکو، او جی ڈی سی، پی او ایل، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی، ڈی جی کے سی اور انڈس موٹرز کے شیئرز سبز نمبر میں ٹریڈ کرتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
ماہرین کے مطابق اس مثبت رجحان کی وجہ بہتر اقتصادی اشاریے اور مارکیٹ میں دستیاب زائد لیکویڈیٹی ہے۔
حالیہ مارکیٹ ریلی میکرو اکنامک استحکام، کارپوریٹ سیکٹر کی مضبوط آمدنی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی سے تقویت پا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مارکیٹ میں لیکویڈیٹی وافر مقدار میں موجود ہے جس سے بڑے شعبوں میں وسیع پیمانے پر شمولیت دیکھنے کو مل رہی ہے۔
جمعرات کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت اور مستحکم کاروباری دن رہا تھا جس میں ادارہ جاتی خریداری کے باعث انڈیکس 2,849.29 پوائنٹس یعنی 1.72 فیصد اضافے کے ساتھ 168,489.63 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
مزید پڑھیں:اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ ساز تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 66 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرگیا
عالمی سطح پر جمعہ کے روز ایشیائی منڈیوں میں بھی مثبت رحجان دیکھا گیا، سرمایہ کاروں کو امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے جلد شرح سود میں کمی کے بڑھتے امکانات سے تقویت ملی ہے۔
جس نے امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کے خدشات کو کافی حد تک کم کر دیا۔ اس دوران سونے کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جبکہ ڈالر کمزور ہوا۔
1981 کے بعد یہ امریکا کا 15واں حکومتی شٹ ڈاؤن ہے، جس کے باعث سائنسی تحقیق، مالیاتی نگرانی اور اہم اقتصادی اعداد و شمار بشمول روزگار کی رپورٹ مؤخر ہوگئی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق ماضی میں شٹ ڈاؤنز کا معیشت اور مارکیٹ پر محدود اثر رہا ہے۔
ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسفک انڈیکس 0.14 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً اپنی بلند ترین سطح کے قریب رہا۔
مزید پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟
اس ہفتے انڈیکس میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ رواں سال اب تک یہ 23 فیصد اوپر جا چکا ہے۔
چین اور بعض ایشیائی منڈیاں طویل تعطیلات کے باعث بند ہونے کی وجہ سے خطے میں کاروباری حجم کم رہا۔
جاپان کا نکی انڈیکس بھی ابتدائی کاروبار میں 0.75 فیصد بڑھ گیا جو گزشتہ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔
یہ اضافہ اس ویک اینڈ پر ہونے والے اہم انتخابات سے قبل دیکھا جا رہا ہے جن کے نتائج مالی اور مانیٹری پالیسی کا رخ متعین کریں گے۔
مزید پڑھیں:
ایشیائی منڈیاں وال اسٹریٹ کے رجحانات کی پیروی کر رہی ہیں جہاں تینوں بڑے انڈیکس ریکارڈ سطح پر بند ہوئے۔
امریکی ٹیکنالوجی اسٹاکس کی بدولت مارکیٹ میں مثبت رحجان برقرار رہا، کیونکہ مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاروں کا جوش و خروش اب بھی برقرار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئل اینڈ گیس انڈس موٹرز پاکستان اسٹاک ایکسچینچ پاور جنریشن ریفائنری سیکٹر سیمنٹ کارپوریٹ سیکٹر کمرشل بینک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئل اینڈ گیس انڈس موٹرز پاکستان اسٹاک ایکسچینچ پاور جنریشن کارپوریٹ سیکٹر
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔