کراچی سے روانہ ہونے والی8پروازیں منسوخ اور 2تاخیر کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
تکنیکی اور آپریشنل وجوہات کے باعث کراچی سے روانہ ہونے والی8پروازیں منسوخ اور 2تاخیر کا شکارہوگئیں۔منسوخ ہونیوالی پروازوں میں کراچی سے مسقط جانیوالی اومان ایئر کی پرواز ڈبلیووائے 324 اورکراچی سے دوحاجانیوالی قطرایئر ویز کی پرواز کیوآر 611 شامل ہیں۔کراچی سے دبئی جانیوالی ایئربلیو کی پرواز پی اے 110 تاخیر ہو ئی جبکہ کراچی سے اسلام آبادجانیوالی ایئربلیو کی پرواز پی اے 200 بھی تاخیر کا شکار ہے ۔ کراچی سے اسلام آبادجانیوالی ایئرسال کی پرواز پی ایف 125، 123،کراچی سے لاہور ایئر سیال کی پرواز پی ایف 145،143،کراچی سے تربت جانیوالی پی آئی اے کی پرواز پی کے 501 اورکراچی سے لاہورجانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 306 بھی منسوخ ہونے والی پروازوں میں شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کی پرواز پی کراچی سے
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔