وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 1967ء سے قبل کی سرحدوں کے ساتھ فلسطینی ریاست کے قیام کے مؤقف کو دہرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حراست میں موجود پاکستانیوں کی واپسی کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

وزیر ِاعظم آفس کے مطابق یہ بات وزیرِ اعظم شہبازشریف نے امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن سے ٹیلی فونک رابطے کے موقع پر کہی ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور فلسطین میں جنگ بندی سے متعلق تبادلۂ خیال کیا۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم نے فلسطین میں جنگ بندی اور فلسطینیوں کے قتلِ عام کی فوری روک تھام کی اہمیت پر زور دیا۔

وزیرِ اعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے فلسطین کے القدس شریف کے بطور دارالحکومت کے پاکستان کے مؤقف کو بھی دہرایا ہے۔

معیشت کو مضبوط بنیادوں پر مستحکم کرنا اولین ترجیح ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف

وزیرِاعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری کے ساتھ تجارت کو بھی فروغ دینا ہماری پالیسی کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ 8 اسلامی ممالک فلسطین میں جنگ بندی کے لیے اپنی فعال اور بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، پُر امید ہیں کہ بہت جلد یہ کوششیں رنگ لائیں گی۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ امن کے ساتھ ساتھ فلسطینی ریاست کے قیام کا دیرینہ خواب پورا ہو گا، صمود فلوٹیلا سے اسرائیلی حراست میں موجود پاکستانیوں کی واپسی کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بالخصوص سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی وطن واپسی کے لیے حکومت اپنا فعال کردار ادا کر رہی ہے، پاکستانی شہریوں کی بازیابی اور بحفاظت وطن واپسی کے لیے دوست ممالک سے مسلسل رابطے میں ہیں، بہت جلد صمود فلوٹیلا سے اسرائیلی حراست میں لیے گئے پاکستانیوں کو بحفاظت وطن واپس لائیں گے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان اسرائیلی ریاست کو تسلیم نہیں کرتا، نہ اس کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں، پاکستان کا مسئلہ فلسطین پر مؤقف دو ٹوک اور واضح ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ دنیا کے ہر فورم پر اپنے نہتے فلسطینی بہن بھائیوں کے لیے آواز اٹھائی ہے اور نہتے فلسطینیوں کے لیے آئندہ بھی آواز اٹھاتا رہے گا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے فلسطینی بہن بھائیوں کا مقدمہ اقوامِ عالم کےسامنے ہمیشہ زوردار طریقے سے لڑا ہے، وفاقی حکومت کشمیر میں امن سے متعلق اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: اسرائیلی حراست میں اعظم شہباز شریف نے انہوں نے کہا کہ واپسی کے لیے کے ساتھ

پڑھیں:

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

سٹی 42: سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔

توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت کے پندرہ روزہ نظام کے بجائے روزانہ قیمتوں کے تعین کے مجوزہ فیصلے پر وضاحت طلب کی گئی۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے ممکنہ مہنگائی پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

  نوٹس متن  کے مطابق مجوزہ نظام سے ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،توجہ دلاؤ نوٹس میں کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات اور نفاذ کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کر لیں۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

نوٹس میں صارفین کو قیمتوں کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لیے مجوزہ اقدامات سے بھی آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا.

متعلقہ مضامین

  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری