میونخ اولمپکس: جب پاکستانی ہاکی ٹیم نے میڈلز پہننے سے انکار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251004-03-5
راشد منان
دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں ایشیاء کپ کے فائنل کی ایوارڈ تقریب میں جو کچھ ہوا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کھیل میں ایسا رویہ ہم پاکستانی بھی کر چکے ہیں۔ 1972 کے اولمپکس کھیلوں کے دوران ہاکی کے فائنل میچ کے بعد میڈلز کی تقسیم کی تقریب میں جب پہلی تین پوزیشنیں حاصل کرنے والی ٹیموں کے کھلاڑی میدان میں میڈل ٹیبل پر موجود تھے اور فاتح ملک جرمنی کا پرچم اپنے قومی ترانے کی دھن میں فضاء میں بلند ہو رہا تھا تو تمام منتظمین، تماشائی اور مہمان اس وقت حیرت زدہ رہ گئے جب چاندی کے تمغے کی حقدار ٹیم پاکستان کے تمام کھلاڑیوں نے اپنی پشت جرمنی کے قومی پرچم کی طرف موڑ دی۔ گرین شرٹ کا ردعمل یہیں تک رہتا تو خیر تھی مگر اس کے پانچ کھلاڑیوں نے ایسی حرکت کی جس سے نہ صرف قومی ٹیم پر تاحیات پابندی کے خدشات پیدا ہوگئے بلکہ پاکستان کے ارجنٹینا کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی ٹوٹنے کے قریب ہوگئے تھے۔
اولمپکس کی عالمی کمیٹی کے رکن اور مغربی جرمنی کے تاجر برٹ ہولڈ بیٹس جو مہمان خصوصی تھے انہوں نے جب پاکستانی کھلاڑیوں کو میڈل پہنانا چاہا تو کھلاڑیوں نے اسے گلے میں پہنے کے بجائے تمغے ہاتھوں میں پکڑ لیے۔ یہی نہیں پانچ کھلاڑیوں اصلاح الدین، منور زمان، شہناز شیخ اور اختر رسول نے سر عام میڈل کو اپنے جوتوں میں رکھ کر اس کی نمائش کی یہ ایک نا زیبا حرکت تھی جس کا نوٹس لیا گیا اور جس نے اولمپکس کی عالمی کمیٹی اور ورلڈ ہاکی فیڈریشن کو ناراض کر دیا میچ کے اس نتیجے پر اشتعال اور احتجاج صرف قومی ٹیم کے کھلاڑیوں تک ہی محدود نہ رہا ساری قوم اپنے تئیں جانبدارانہ امپائرنگ پر مشتعل اور غصے اور صدمے کا شکار ہوئی حتیٰ کہ اس وقت کے صدر مملکت ذوالفقار علی بھٹو کا ایک بیان ملک کے ایک موقر جریدے میں یوں رپورٹ ہوا ’میں غصے سے بھنا اٹھا اور وزارت خارجہ کے سیکرٹری سے کہا کہ اگر ارجنٹینا کے امپائر نے میرے ملک کے لوگوں کو نقصان پہنچانے اور ان کی توہین کرنے کی کوشش کی ہے تو میں کل ہی ارجنٹینا سے سفارتی تعلقات منقطع کر لوں گا‘۔ بھٹو صاحب کے مذکورہ بیان کے ساتھ ان کا یہ بیان بھی بعد کے اخبارات میں یوں شایع ہوا کے ریڈیو پاکستان کی ناقص کمنٹری میں مبصروں نے کھیل کا جو آنکھوں دیکھا حال بیان کیا گیا اس نے مجھے گمراہ کیا۔
صدر مملکت بھٹو جنہوں نے شکست والے روز ہار کو ٹیم کی اخلاقی فتح قرار دے کر کھلاڑیوں کو یورپ کی سیر کا عندیہ دیا تھا جذبات کا طوفان تھمنے کے بعد ہاکی ٹیم پر بری طرح برس پڑے اور انہوں نے کراچی میں تاجروں سے خطاب کے دوران یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستانی ٹیم کے بے ہودہ اور احمقانہ رویے نے سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ پاکستانی قوم کی طرف سے میں مغربی جرمنی سے معذرت کرتا ہوں۔ انہوں نے ٹیم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کو شکست دینے کے بعد کھلاڑیوں نے ایسا انداز اختیار کرلیا تھا گویا وہ صلاح الدین ایوبی ہیں اور انہوں نے بیت المقدس فتح کرلیا ہے۔ پاکستان کے معروف اسپورٹس جرنلسٹ قمر احمد جو اس تنازعے کے عینی شاہد تھے انہوں نے اس واقعے کی تفصیل کچھ اس طرح بیان کی ہے وہ لکھتے ہیں کہ جرمنی کے مائیکل کروز ے کے گول پر پاکستان نے تکنیکی وجوہات پر اعتراض کیا۔ مگر امپائر نے اس پر توجہ نہ دی۔ پاکستانی مینیجر غلام رسول چودھری نے گمان کیا کہ پاکستان کو طے شدہ طریقہ کار کے تحت ہروایا گیا ہے۔ ٹیم کی انتظامیہ کے اس احساس نے کھلاڑیوں کو بھی جذباتی کر دیا اور ان کے اس گمان کے بعد پوری قوم اشتعال میں آگئی۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ اسی طرح وقفے سے ایک منٹ قبل مدثر اصغر کی ہٹ سے گیند گول میں چلی گئی۔ ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے امپائر سرویٹے نے پاکستان کے حق میں گول نہ دیا۔
سابق اولمپئن شہناز شیخ جنہوں نے میڈل کو جوتے کے ساتھ اٹھایا تھا ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مینیجر نے کھلاڑیوں سے کہا کہ میڈل ہاتھ میں نہیں لینا۔ اس لیے جس کی سمجھ میں جو آیا اس نے وہی کیا بعد کے وضاحتی بیان میں ان کا کہنا تھا کہ گرمی کے باعث میں نے جوتے اُتار رکھے تھے اور میں نے جوتے اُٹھانے کے لیے میڈل والا ہاتھ استعمال کیا جس سے دیکھنے والوں کو یوں لگا کے میڈل جوتے میں رکھا گیا ہے۔ جس سے قمر احمد بالکل اتفاق نہیں کرتے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کھلاڑیوں نے جان بوجھ کر میڈلز جوتوں میں رکھے میچ ہارنے پر اس طرح کا رد عمل اسپورٹس میں اسپِرٹ کے خلاف تھا۔
مغربی جرمنی کی فتح اولمپکس کی 44 سالہ تاریخ میں پہلا موقع تھا جب ہاکی کا گولڈ میڈل کسی ایشیائی ملک کے بجائے کسی یورپی ملک نے جیتا ہو۔ میونخ میں جرمنی کے مدمقابل ہاکی کے اس معرکے میں پاکستانی ٹیم کے غیر معمولی اعتماد کی ایک وجہ اپنے روایتی حریف انڈیا کو سیمی فائنل میں ہرانا بھی تھا اور 1968 کے اولمپکس میں پاکستانی ٹیم کا نو (9) میچوں میں ناقابل شکست رہنا بھی ان کے اعتماد کی ایک وجہ تھی جسے مغربی جرمنی کی شکست سے ٹھیس پہنچی تھی اس دور کی خاتون اوّل بیگم نصرت بھٹو بھی میچ دیکھنے والوں میں شامل تھیں جو عام تماشائیوں کی طرح کافی حد تک خود بھی مشتعل تھیں انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے اس وقت کے اولمپکس کمیٹی کے صدر رینی فرینک جن کا تعلق بلغاریہ سے تھا کو اپنے اجلاس میں بلایا۔ ان کا موقف جاننے کے بعد پاکستان کے خلاف تادیبی کارروائی کی شروعات کا آغاز ہوگیا۔ یہاں تک کہا جانے لگا کے تاحیات پابندی کے ساتھ ساتھ پاکستان سے چاندی کا تمغہ واپس لے لیا جائے لیکن ذوالفقارعلی بھٹو کی بصیرت اور ان کے معذرت خواہانہ بیان نے پاکستانی ہاکی فیڈریشن کو بھی احساس دلادیا کہ جرمنی کے پرچم کی توہین ایسی غلطی ہے جس کا دفاع ممکن نہیں۔ اس لیے اولمپکس کی عالمی کمیٹی کے سامنے معافی نامہ داخل کروا دیا گیا اور اس طرح پاکستان کی ہاکی کے کھیل میں دو بارہ واپسی ممکن ہو سکی البتہ پاکستانی ٹیم پر دو سال کے لیے مقابلوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی گئی۔ تمغے کو جوتے میں رکھنے والے کھلاڑیوں پر آئندہ کسی بھی مقابلے میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی گئی جس کے باعث ہاکی کے اگلے ورلڈ کپ میں وہ حصہ نہ لے سکے۔
تاریخ کے جھروکوں سے ان تفصیلات کے بعد سب سے پہلے تو پاکستانی ٹیم سے یہ سوال ضرور کیا جانا چاہیے کے پاکستانی ٹیم کا انڈیا کی ٹیم سے ہاتھ ملانا زیادہ ضروری امر تھا یا ان سے کھیل کے میدان میں ہماری جیت۔ اور پھر کیا بھارتی ٹیم کا ہم سے ہاتھ نہ ملانا ہمارے لیے اتنا بڑا صدمہ تھا کے ہم ایک ہی ایونٹ میں ان سے تین مرتبہ میچ ہار گئے، ہمیں شرمندگی ہاتھ نہ ملانے پر ہونی چاہیے نہ کے بار بار کی ہار پر۔ بھارت کرکٹ ٹیم کے کپتان سوریا کمار نے اپنی ٹیم مینجمنٹ کے کہنے پر وہی کچھ کیا جو ہماری ہاکی ٹیم نے 1972 کے فائنل میں اپنی ٹیم مینجمنٹ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کیا تھا۔ رہا بھارتی کپتان کی آپریشن سیندور کی بات تو اس پر احتجاج قومی اور سفارتی سطح پر ہونا چاہیے تھا نہ کہ ہر دو طرف کے کھلاڑیوں کو اس بات کی اجازت کے وہ کھیل کے بجائے سیاست میں حصہ لینے لگ جائیں۔ ایشیاء کپ میں ہمیں کھلاڑیوں کا کھیل سے دلچسپی تھی نہ کہ ان کی اداؤں سے! ایک نے ٹرافی لینے سے انکار کیا تو دوسرے نے چیک پھینک کر کرکٹ کی ویسی ہی توہین کی جس طرح ہماری گرین شرٹ نے 1972 میں ہاکی کے کھیل کی کی تھی۔ ان کا زعم تو ٹھیک تھا وہ مسلسل میچ جیت رہے تھے لیکن ہماری کرکٹ ٹیم تو اپنے کمتر درجے کی ٹیم سے بھی میچ ہار کر ملک بھر میں پھیلے شائقین کرکٹ کے ارمانوں کا ہمیشہ خون کرتی رہی ہے۔
مذکورہ تحریر جس میں مختلف حوالوں سے ایک تاریخ بیان کی گئی ہے کے بعد آئی سی سی کو بھی اپنے فل کورٹ اجلاس میں اس تنازعے کی پوری تفصیلات سننے کے بعد ہر دو ٹیم اور ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی فی الفور عمل میں لانی چاہیے تاکہ بالکل ابتدا میں ہی کرکٹ کے کھیل میں داخل سیاست کا ہمیشہ کے لیے قلع قمع کر دیا جائے، دو ٹوک بات تو یہی ہے کہ ہر اس شخص، کھلاڑی اور انتظامیہ جو بھی اس واقعے کو ہوا دینے کا سبب بنا ہے انہیں کرکٹ کے میدان سے ہمیشہ کے لیے باہر کر دیا جائے تاکہ کھیل کھیل ہی رہے سیاست کا اکھاڑہ نہ بننے پائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستانی ٹیم کھلاڑیوں نے کھلاڑیوں کو اولمپکس کی پاکستان کے انہوں نے جرمنی کے کے ساتھ ہاکی کے کی ٹیم کر دیا ٹیم پر ٹیم کے اور ان کے لیے کے بعد
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔