بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) نے بلوچستان اسمبلی میں اپنے واحد رکن میر جہانزیب مینگل کی پارٹی رکنیت 2 ماہ کے لیے معطل کر دی ہے۔

نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پارٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یہ فیصلہ میر جہانزیب مینگل کی جانب سے شوکاز نوٹس پر غیر تسلی بخش جواب، پارٹی پالیسیوں کی مسلسل خلاف ورزیوں، اور صوبائی اسمبلی میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے حوالے سے پارٹی مؤقف کی نمائندگی نہ کرنے پر کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ میر جہانزیب مینگل نے اسمبلی اجلاس میں شرکت نہ کر کے اس ایکٹ کی مخالفت اور پارٹی کے بیانیے کی حمایت سے گریز کیا، جو ان کی ذمہ داری سے انحراف کے مترادف ہے۔
میر جہانزیب مینگل، سردار اختر مینگل کے استعفیٰ دینے کے بعد وڈھ کے حلقے سے ضمنی انتخاب میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے، سردار اختر مینگل نے 2024 کے عام انتخابات میں قومی اور صوبائی دونوں نشستیں جیتی تھیں، لیکن انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، پارٹی نے جہانزیب مینگل کو ٹکٹ دیا تھا، جنہوں نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔

بی این پی نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو ایسی قانون سازی قرار دیا ہے، جو بلوچستان کے عوام کو ان کے وسائل کی ملکیت سے محروم کرنے اور ان کے آباؤ اجداد کی قربانیوں سے غداری کے مترادف ہے۔

پارٹی پہلے ہی اس ایکٹ اور اس میں مجوزہ ترامیم کو مسترد کر چکی ہے، اس مؤقف کے ساتھ کہ یہ بلوچ اور پشتون عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کرتا ہے۔

بیان میں زور دیا گیا کہ بلوچستان کے وسائل اس کے عوام کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہیں، اور اس معاملے پر کوئی غفلت یا خاموشی ناقابلِ قبول ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: میر جہانزیب مینگل

پڑھیں:

کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار

پشاور:

خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔

ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟