نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک گفتگو، علاقائی پیشرفت بالخصوص غزہ کی صورتحال بارے تبادلہ خیال کیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 اکتوبر2025ء) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور علاقائی پیش رفت بالخصوص غزہ کی صورتحال بارے تبادلہ خیال کیا۔ ہفتے کو دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے علاقائی پیش رفت بالخصوص غزہ کی صورتحال بارے تبادلہ خیال کیا۔
(جاری ہے)
انہوں نے نیویارک میں آٹھ عرب اسلامی ممالک اور امریکا کے درمیان مصروفیات اور مشاورت سمیت جاری سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا جس کا مقصد فوری اور پائیدار جنگ بندی کا حصول، بلا روک ٹوک انسانی امداد کو یقینی بنانا اور غزہ میں دیرپا امن کو یقینی بنانا ہے۔ نائب وزیراعظم نے ان کوششوں میں سعودی وزیر خارجہ کی مسلسل مصروفیت اور تعمیری کردار کو سراہا۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز پر حماس کے ردعمل سمیت حالیہ پیش رفت بارے بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں وزرا نے فلسطینی کاز کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے دو ریاستی حل پر مبنی منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کو آگے بڑھانے کے لئے عرب اور اسلامی شراکت داروں کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے تبادلہ خیال کیا
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔