اسلام آباد:

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے سعودی اور مصری ہم منصبوں سے ٹیلی فونک گفتگو اور غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال بالخصوص غزہ میں سنگین حالات پر تبادلۂ خیال کیا، اس موقع پر جاری سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو ہوئی جن میں نیویارک میں عرب اور اسلامی ممالک کے درمیان ہونے والے مشاورتی اجلاس شامل ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق ان کوششوں کا مقصد فوری اور پائیدار جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے مشترکہ اقدامات کو آگے بڑھانا ہے،
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان کوششوں کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان حالیہ مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کرتا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے مصری ہم منصب کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی جسے انہوں نے خوشدلی سے قبول کر لیا، دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ غزہ میں منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کے لیے رابطے اور اشتراکِ عمل جاری رکھا جائے گا۔

سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ

اسحاق ڈار نے غزہ کے معاملے پر سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال خصوصاً غزہ میں جاری بحران پر تفصیلی بات چیت کی۔

اس موقع پر وزرائے خارجہ نے جاری سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا۔ ان کوششوں کا مقصد فوری اور پائیدار جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ میں دیرپا امن کا قیام ہے۔

ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیرِ خارجہ کے مسلسل رابطے اور تعمیری کردار کو سراہا، دونوں رہنماؤں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز پر حماس کے جواب سمیت تازہ پیشرفت پر بھی گفتگو کی۔

دونوں وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کی حمایت کے اپنے عزم کو دہرایا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ عرب و اسلامی ممالک کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کے ساتھ قریبی روابط جاری رکھے جائیں گے تاکہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خارجہ اسحاق ڈار نے خارجہ کے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل