شکارپور،تیز رفتار مزدا فٹ پاتھ پر سوئے افراد پر چڑھ دوڑی،8 جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251005-08-11
شکارپور (نمائندہ جسارت) شکارپور میں روڈ حادثہ، میاں بیوی چار بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق۔ تفصیلات کے مطابق شکارپور میں افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا جہاں تیز رفتار مزدا نے بجلی کے پول سے ٹکرا کر سڑک کنارے سوئے ہوئے افراد کو روند ڈالا جس کے نتیجے میں چار معصوم بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق جبکہ 7 افراد شدید زخمی ہوگئے۔ حادثے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے جاں بحق اور زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال شکارپور منتقل کردیا، شکارپور پولیس کے مطابق شکارپور کے علاقے کندن چورنگی میں پیش آنے والا یہ حادثہ کئی گھروں کے چراغ بجھا گیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں 38 سالہ گوبھی، 40 سالہ رابعہ، 10 سالہ ریما، 8 سالہ رشیدہ، 8 سالہ سمعیہ، 12 سالہ انعام اللہ، 6 سالہ پیاری شامل ہیں، جب کہ زخمیوں میں سلیمان خمیسو، اویس اور وجے شامل ہیں، جنہیں سول اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ اس افسوسناک حادثے کے بعد علاقے میں سوگ کا سماں چھا گیا، ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ پولیس کے مطابق حادثے کا ذمہ دار مزدا ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا تاہم گاڑی کو تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ادھرحادثے میں جاں بحق ہونے والے8 افراد کی نمازِ جنازہ کندن چوک پر ادا کی گئی،حادثے میں میاں بیوی 4 بچوں سمیت 7 افراد کی میتیں اْٹھنے پر ہر آنکھ اشکبار، نمازِ جنازہ میں ڈپٹی کمشنر شکارپور شکیل احمد ابیو ، صحافی وکلا ، سول سوسائٹی، شہریوں سمیت مقتولین کے لواحقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی ،دوسری جانب جاں بحق افراد کو شکارپور کے چننگی مقام میں قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔