بحیرہ عرب میں سمندری طوفان شکتی شدید ترین مرحلے میں داخل، کراچی میں بارش کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: بحیرہ عرب میں بننے والا سمندری طوفان شکتی شدت اختیار کرتے ہوئے اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے، کراچی میں شدید بارش کا امکان ہے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق محکمہ موسمیات کاکہنا ہےکہ طوفان اس وقت بحیرہ عرب کے شمال مغربی حصے میں موجود ہے اور کراچی کے جنوب مغرب سے تقریباً 700 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ طوفان کی موجودہ سمت شمال مغرب کی جانب ہے اور آئندہ 24 گھنٹوں میں اس کی شدت میں بتدریج کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان کے ساحلی علاقوں کو طوفان شکتی سے فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے، تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر ماہی گیروں کو گہرے سمندر میں نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمے کا کہنا ہے کہ طوفان کے اثرات پاکستان کے بجائے عمان اور جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں پر زیادہ محسوس ہو سکتے ہیں، جہاں تیز ہواؤں اور بارشوں کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سردار سرفراز کے مطابق طوفان شکتی نے گذشتہ 12 گھنٹوں میں تیزی سے شدت اختیار کی اور اب یہ بہت شدید سمندری طوفان‘‘ (Very Severe Cyclonic Storm) کی کیٹیگری میں داخل ہو چکا ہے۔ تاہم موسمیاتی تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کل (اتوار) سے طوفان کی طاقت کم ہونا شروع ہو جائے گی، اور آئندہ دو دنوں میں یہ ایک ڈپریشن یا کم دباؤ کے نظام میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ آج شہر قائد میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے اور بعض علاقوں، خاص طور پر کلفٹن، ڈیفنس، ناظم آباد اور گلشنِ اقبال — میں ہلکی بارش یا بوندا باندی ہو سکتی ہے۔
محکمے کے مطابق کراچی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ اور کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے جبکہ سمندری ہوائیں معمول کے مطابق چلتی رہیں گی۔
موسمی ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ غیر مصدقہ خبروں سے گریز کریں اور صرف محکمہ موسمیات کی جاری کردہ اطلاعات پر انحصار کریں۔ ماہی گیروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگلے 24 سے 36 گھنٹوں تک گہرے سمندر میں جانے سے گریز کریں کیونکہ سمندری لہریں بلند ہو سکتی ہیں۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفان شکتی کے کمزور پڑنے کے بعد سندھ کے کچھ ساحلی اضلاع میں ہلکی بارشوں اور بوندا باندی کے امکانات بڑھ جائیں گے، جو درجہ حرارت میں معمولی کمی لا سکتے ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے جب رواں سال کے موسمِ خزاں میں بحیرہ عرب میں کسی سمندری طوفان نے اس قدر شدت اختیار کی ہے، ماہرین کے مطابق پاکستانی ساحل اس کے راستے میں نہیں آئیں گے۔
خیال رہےکہ کراچی اور سندھ کے ساحلی علاقوں میں موسم کی صورتحال نسبتاً گرم اور مرطوب بنی ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات سمندری طوفان کا امکان ہے طوفان شکتی کے مطابق
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔