بلوچستان، مقامی قبائل اور فتنہ الہندوستان میں جھڑپ، 4 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
ذرائع نے کہا کہ کورکی میں مقامی قبائل اور فتنہ الہندوستان کے درمیان جھڑپ سے 4 دہشت گرد ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔ مقامی قبائل کے اصرار کے باوجود دہشت گردوں نے علاقہ خالی کرنے سے انکار کیا، کلی آدم زئی کور کی خواتین نے قرآن کا واسطہ دے کر دہشت گردوں کو جانے کیلئے بھی کہا۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے بہادر عوام فتنہ الہندوستان کے سامنے آہنی دیوار بن گئے جبکہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچستان کے علاقے کورکی میں پرامن لوگوں پر حملہ کیا۔ ذرائع نے کہا کہ کورکی میں مقامی قبائل اور فتنہ الہندوستان کے درمیان جھڑپ سے 4 دہشت گرد ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔ مقامی قبائل کے اصرار کے باوجود دہشت گردوں نے علاقہ خالی کرنے سے انکار کیا، کلی آدم زئی کور کی خواتین نے قرآن کا واسطہ دے کر دہشت گردوں کو جانے کیلئے بھی کہا۔
ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے کورکی میں مقامی خواتین کو مسلسل ہراساں کیا، دہشت گردوں کے مذموم عزائم کے پیش نظر مقامی قبائل نے اپنے دفاع کا فیصلہ کیا، دہشت گردوں سے جھڑپ کے دوران مقامی قبیلے کا ایک فرد شہید اور 2 زخمی ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کورکی کے مقامی قبائل نے عہد کیا کہ وہ اپنے پرامن علاقے کو دہشتگردانہ سرگرمیوں میں استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ ذرائع نے کہا کہ بلوچستان کے بہادر عوام پر فتنہ الہندوستان کا اصل چہرہ عیاں ہو چکا ہے، خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات سے واضح ہے کہ فتنہ الہندوستان کا اسلام اور بلوچ روایات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فتنہ الہندوستان کے کورکی میں
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک