عمران خان کی طبیعت ٹھیک نہیں، عدالت میں پیش ہونے سے انکار: جیل عملہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
فائل فوٹو
راولپنڈی اڈیالہ جیل میں 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت پر بانی پی ٹی آئی نے عدالت میں پیش ہونے سے انکار کردیا۔
راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے اڈیالہ جیل میں 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کی، اس موقع پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک اپنی ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ بھی وہاں موجود تھے۔
عدالت نے 3 مرتبہ بانی پی ٹی آئی کو پیش ہونے کا پیغام بھیجا تاہم جیل عملے نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے انکار کردیا ہے۔
جیل عملے نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کہہ رہے ہیں ان کی طبیعت ٹھیک نہیں۔
عدالت، پراسیکیوشن ٹیم اور بانی پی ٹی آئی کے وکلاء 1 گھنٹہ 40 منٹ تک انتظار کرتے رہے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جی ایچ کیو حملہ کیس میں حاضری لگنی تھی۔
بانی پی ٹی آئی کے خلاف نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کا جیل ٹرائل بحال کر دیا گیا۔ پنجاب حکومت نے جیل ٹرائل بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے خلاف 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کا جیل ٹرائل بحال کردیا گیا تھا۔
پنجاب حکومت نے جیل ٹرائل کی بحالی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مئی جی ایچ کیو حملہ کیس بانی پی ٹی آئی جیل ٹرائل
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔