رجب بٹ کے افیئرز کی افواہوں پر اہلیہ کا ردعمل کیا ہے؟ یوٹیوبر نے خود بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
مشہور یوٹیوبر اور ولاگر رجب بٹ ایک بار پھر سوشل میڈیا کی سرخیوں میں ہیں۔ کبھی متنازع بیانات، کبھی جھگڑوں اور قانونی معاملات کے باعث خبروں میں رہنے والے رجب بٹ اس بار اپنی ذاتی زندگی سے متعلق افواہوں کی وجہ سے زیرِ بحث ہیں۔
اس وقت رجب بٹ پاکستان سے باہر برطانیہ میں مقیم ہیں جہاں ان کے خلاف مختلف مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ حال ہی میں وہ ایک پوڈکاسٹ میں شریک ہوئے جہاں ان سے متعدد ذاتی سوالات پوچھے گئے، جن میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا سوال ان کے اور ٹک ٹاکر فاطمہ خان کے مبینہ تعلقات سے متعلق تھا۔
یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل فاطمہ خان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کا رجب بٹ سے تعلق رہا ہے، حتیٰ کہ انہوں نے اس حوالے سے مبینہ تحائف بھی سوشل میڈیا پر دکھائے تھے۔ تاہم، رجب بٹ نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ فاطمہ خان کے پاس کوئی ثبوت، پیغامات یا رسیدیں موجود نہیں۔ ان کے مطابق، ’’یہ سب جھوٹا پروپیگنڈا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘
جب میزبان نے ان سے اہلیہ ایمان کے ردِعمل کے بارے میں پوچھا تو رجب بٹ مسکرا کر بولے ’’ایمان کو ان سب باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ جانتی ہیں کہ ہمارے رشتے میں ان کی کتنی اہمیت ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایمان ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی رہتی ہیں، حالات جیسے بھی ہوں وہ ایک دوسرے پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔
رجب بٹ کا یہ انٹرویو سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا۔ مداحوں کی جانب سے مختلف آرا سامنے آرہی ہیں۔ کچھ لوگ ان کے اعتماد اور صاف گوئی کو سراہ رہے ہیں جبکہ بعض صارفین اب بھی اس تنازعے پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔