UrduPoint:
2026-07-24@06:32:05 GMT

بھارت اور برطانیہ کی شراکت عالمی استحکام کی بنیاد، مودی

اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT

بھارت اور برطانیہ کی شراکت عالمی استحکام کی بنیاد، مودی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 09 اکتوبر 2025ء) برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر، وزیر اعظم کے طور پر 125 رکنی وفد کے ہمراہ پہلی بار بھارت آئے ہیں۔

اسٹارمر نے جمعرات کو ممبئی میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ اس کے بعد دونوں رہنماؤں کی طرف سے مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔

نریندر مودی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں ''اہم پیش رفت‘‘ ہوئی ہے، اور دونوں نے ''بے مثال‘‘ اقتصادی مواقع کے دروازے کھولنے کا عہد کیا ہے۔

مودی نے کہا، موجودہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران بھارت اور برطانیہ کے درمیان یہ بڑھتی ہوئی شراکت عالمی استحکام اور اقتصادی ترقی کی ایک اہم بنیاد بنی ہوئی ہے۔

وزیراعظم مودی نے کہا، ''اقتصادی اور تجارتی معاہدے پر دستخط کے چند ہی ماہ بعد برطانیہ کے وزیراعظم اسٹارمر کی بھارت آمد، جس کے ساتھ اب تک کا سب سے بڑا تجارتی وفد آیا ہے، بھارت-برطانیہ شراکت میں نئے جوش کی علامت ہے۔

(جاری ہے)

‘‘

مودی نے ہندی میں اسٹارمر سے کہا، ہم مل کر دونوں ممالک کے عوام کے لیے روشن مستقبل تعمیر کریں گے۔

کیئر اسٹارمر نے کیا کہا؟

برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی دونوں ممالک کے درمیان جولائی میں ہونے والے اقتصادی اور تجارتی معاہدے کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ برطانیہ میں بالی وڈ فلمیں بنانے کے لیے ایک معاہدہ ہوا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ برطانوی یونیورسٹیاں بھارت میں اپنے کیمپس قائم کریں گی، جس سے برطانیہ یہاں اعلیٰ تعلیم کا سب سے بڑا بین الاقوامی فراہم کنندہ بن جائے گا۔

اسٹارمر نے کہا، ''بھارت کی ترقی کی کہانی قابلِ تعریف ہے‘‘، اور نوٹ کیا کہ نئی دہلی کی 2028 تک دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی خواہش ہے۔

اسٹارمر نے کہا، ''میں نے یہاں جو کچھ بھی دیکھا ہے وہ مجھے بالکل یقین دلاتا ہے کہ آپ اس میں کامیاب ہونے کے راستے پر ہیں۔

اس لیے ہم اس سفر میں شراکت دار بننا چاہتے ہیں۔‘‘ برطانیہ بھارت آزاد تجارتی معاہدہ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اعداد و شمار کے مطابق، بھارت2022 میں دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت بن گیا، جب اس کی مجموعی ملکی پیداوار نے برطانیہ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ توقع ہے کہ یہ رواں سال کے آخر میں جاپان کو پیچھے چھوڑ کر چوتھی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔

بھارت اور اس کا سابق نوآبادیاتی حکمران باہمی تجارت میں تقریباً 54.

8 بلین ڈالر کے کاروبار اور سرمایہ کاری کے ذریعے دونوں ممالک میں چھ لاکھ سے زیادہ ملازمتیں پیدا کرتے ہیں۔

برطانیہ-بھارت آزاد تجارتی معاہدہ جس پر جولائی 2024 میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی برطانیہ آمد کے دوران دستخط ہوئے، ایک سنگ میل سمجھا جاتا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سالانہ 25.5 بلین پاؤنڈ تک تجارت کو فروغ دینا ہے۔

مودی نے کہا، ''یہ معاہدہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان درآمدی لاگت کم کرے گا، نوجوانوں کے لیے نئی ملازمتیں پیدا کرے گا، تجارت میں اضافہ کرے گا، اور ہماری صنعت اور صارفین دونوں کو فائدہ پہنچائے گا۔‘‘

اس معاہدے کے تحت، بھارت برطانوی مصنوعات جیسے وہسکی، کاسمیٹکس اور طبی آلات پر درآمدی محصولات کم کرے گا، جبکہ برطانیہ بھارت سے آنے والے کپڑے، جوتے اور خوراک مصنوعات، بشمول منجمد جھینگے، پر محصولات کم کرے گا۔

ادارت: صلاح الدین زین

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دونوں ممالک کے مودی نے کہا اسٹارمر نے کے درمیان کرے گا

پڑھیں:

وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم

سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری  وفد کی ملاقات،وزیر اعظم  نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے  پاک چین  دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا

وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے  سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 اس منصوبے سے  ملک میں  زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور  تربیت کو ان منصوبوں  کا حصہ بنایا جائے۔

 جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو  نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی  ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے  پر بات چیت کی جارہی ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں

ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر  اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی  کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان