حماس کو ختم نہ کیا گیا تو حکومت گرا دینگے، اتمار بن گویر کی نیتن یاہو کو دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں دائیں بازو کے انتہاء پسند وزیر کا کہنا تھا کہ وہ ایسے کسی امن معاہدے کی حمایت نہیں کریں گے، جس کے نتیجے میں ان فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، جن پر اسرائیل نے سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل کے دائیں بازو کے انتہاء پسند وزیر اتمار بن گویر نے کہا ہے کہ اگر حماس کو مکمل طور پر ختم نہ کیا گیا تو وہ نیتن یاہو کی حکومت ختم کرنے کے لیے ووٹ دیں گے۔ اسرائیل کے دائیں بازو کے انتہاء پسند وزیر اتمار بن گویر نے ایک بیان میں غزہ امن معاہدے کی بھی مخالفت کر دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسے کسی امن معاہدے کی حمایت نہیں کریں گے، جس کے نتیجے میں ان فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، جن پر اسرائیل نے سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ انتہاء پسند وزیر اتمار بن گویر نے اسرائیلی حکومت کو دھمکی دی کہ اگر حماس کا وجود برقرار رہا تو ان کی پارٹی حکومت گرا دے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انتہاء پسند وزیر اتمار بن گویر
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔