22 سالہ قید: اسرائیل کا ڈیل کے تحت بھی اہم فلسطینی قیدی کی رہائی سے انکار، یہ قیدی کون ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیل نے فلسطین کے معروف سیاسی رہنما مروان البرغوثی کا نام غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت رہائی پانے والے قیدیوں کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔
فتح موومنٹ سے تعلق رکھنے والے مروان البرغوثی 2003 سے اسرائیلی قید میں ہیں، تاہم 22 سال جیل میں گزارنے کے باوجود وہ آج بھی مغربی کنارے اور غزہ کے مقبول ترین فلسطینی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت حماس کی جانب سے جو قیدیوں کی فہرست اسرائیلی حکام کو دی گئی، اس میں مبینہ طور پر البرغوثی کا نام بھی شامل تھا، اور یہ بھی قیاس کیا جا رہا تھا کہ وہ مستقبل میں فلسطینی اتھارٹی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تاہم عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام نے البرغوثی کا نام رہائی پانے والے افراد کی حتمی فہرست سے نکال دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ مروان البرغوثی کو رہائی حاصل کرنے والے قیدیوں میں شامل نہیں کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان(Aleema khan) نے کہا کہ حکمراں اتنے خوفزدہ ہیں کہ بشریٰ بی بی کی فیملی کو بتایا ہوا ہے باہر جا کر بات نہیں کرنا۔
راولپنڈی میں گورکھپور فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے اور خوفزدہ ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔
انھوں نے کہا کہ آج اڈیالہ جیل کے اطراف کرفیو لگایا گیا ہے، بازار بھی بند کیا گیا ہے، ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم اپنے بھائی سے ملیں، بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھ کر ٹارچر کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
علیمہ خان نے کہا کہ میرے خلاف بھی کیس چل رہا ہے مجھے بھی جیل میں ڈال دیں۔