اسرائیلی قید میں مشتاق احمد کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا گیا؟ سابق سینیٹر نے روداد سنا دی
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
اسلام ٹائمز: سابق سینیٹر نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے اراکین کی رہائی کا کریڈٹ یورپی عوام کو دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کے مظاہروں کی وجہ سے اسرائیل ہمیں رہا کرنے پر مجبور ہوا۔ انہوں نے ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بیمار بچی ہے، اسے کوئی نہ کوئی بیماری لاحق رہتی ہے، اس کے باوجود اس نے 20 دن کا سمندر کا مشکل ترین سفر کیا، اسے اسرائیل کا جھنڈا چومنے پر مجبور کیا گیا، جملے کسے گئے، گریٹا کی توہین و تذلیل کی گئی، پورے عالم اسلام کو ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیئے۔ خصوصی رپورٹ
غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے رُکن اور سابق سینیٹر مشتاق احمد نے اسرائیل قید کے دوران گزرے دنوں کی روداد بیان کر دی۔ جیو نیوز کے پروگرام ’کیپٹیل ٹاک‘ میں میزبان حامد میر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سابق سینیٹر مشتاق احمد نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے سفر، اسرائیلی فورسز کے قبضے، قید میں ظلم و جبر اور غزہ میں جاری بدترین مظالم پر تفصیلی گفتگو کی۔ مشتاق احمد نے بتایا کہ پہلے تو ہمیں یقین ہی نہیں تھا کہ ہم فلسطین پہنچ سکیں گے، تاہم خواہش اور ایک امید ضرور موجود تھی کہ شاہد ہم وہاں پہنچ جائیں، اپنے سفر میں ہم اسرائیل کا دہشت گردانہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے لانے میں کامیاب رہے۔
50 کشتیوں کو کنٹرول کرنے کیلئے اسرائیل نے پوری نیوی تعینات کی
دوران سفر بھی ہمیں معلوم تھا کہ ہم خطرے میں ہیں اور کسی بھی وقت ڈرون حملہ ہو سکتا ہے، فلوٹیلا میں موجود اراکین کو ہدایت دی گئی تھی کہ کوئی بھی کارآمد چیز اسرائیلی فورسز کے حوالے نہیں کی جائیں گی، جس کہ وجہ سے ہم نے اپنے موبائل فونز اور دیگر ضروری اشیا کو پانی میں پھینک دیا تھا۔ سابق سینیٹر کے مطابق ہماری 50 کشتیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اسرائیل نے پوری نیوی تعینات کی ہوئی تھی، پھر بھی ہمیں انٹر سیپٹ کرنے میں انہیں 12 گھنٹے کا وقت لگا، ہماری کشتی کو غزہ سے 40 کلو میٹر دور انٹرسیپٹ کیا گیا۔ جس کے تھوڑی دیر بعد 12 اسرائیلی کمانڈوز ہماری کشتی پر زبردستی آئے، اس دوران 2 بار ان کے کمانڈوز گر بھی گئے، وہ بظاہر ڈرے ہوئے لگ رہے تھے۔
اسرائیلی کمانڈوز نے پاکستانی جھنڈا اتارا، میں نے وہ اٹھا کر محفوظ کر لیا
اسرائیلی کمانڈوز نے ہماری کشتی پر آتے ہی پہلے فلسطین کا جھنڈا پھاڑا، پھر انہوں نے پاکستان کا جھنڈا اتارا، تو میں جھنڈے کو اٹھا کر محفوظ کر لیا، جس کے بعد قابض فورسز ہمیں اشدود کی بندرگاہ پر لے گئے۔ انہوں نے ہمیں وہاں الٹا لٹا دیا تھا، معمولی سی حرکت پر لات مارتے تھے، میرے ساتھ دو فوجی تعینات تھے، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو؟ تو میں نے انہیں جواب دیا کہ پاکستان سے آیا ہوں، جس پر ان فوجیوں نے پہلے پاکستان کو اور پھر مجھے گالی دی۔ مشتاق احمد نے مزید بتایا کہ جس کے بعد ہمیں اسرائیلی افواج نے اشدود سے بذیعہ قیدی وین کتزیعوت جیل منتقل کیا، اس دوران اچانک سے 20 کے قریب لوگ کچھ کتوں کے ساتھ وہاں آئے، ان کے پاس گنیں بھی تھی، ہمیں لاتیں مار کر سائیڈ پر جمع کیا گیا اور ہمارے اوپر کتوں کو چھوڑا گیا، وہ کتے ہمارے منہ تک آرہے تھے۔
جس کے بعد ہماری آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر ہمیں باہر لے جایا گیا، مغرب کے وقت نماز پڑھنے کی اجازت مانگی تاہم انہوں نے اجازت نہیں دی، اس کے باوجود ہم نے بغیر وضو اور تیمم کے کھڑے کھڑے نماز ادا کی، اسرائیلی قید کے دوران ایک دن میں نے نیلسن منڈیا کے پوتے کے ساتھ بھی گزارا، جسے میں اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں۔ وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کی جانب سے ان کی رہائی کے لیے کوششوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اسحٰق ڈار نے فون پر رابطہ کیا تھا، دوران قید برطانیہ کا ایک سفارت کار 2 بار ملا تھا، اسے میری رہائی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، بلکہ وہ ڈیپورٹیشن ڈاکیومنٹس پر میرے دستخط کروانا چاہتا تھا۔
اسرائیلی جج کو کہا، بابائے قوم، عوام، ریاست اور میں اسرائیل کو نہیں مانتے
اس دوران مجھے دو بار اسرائیلی جج کے سامنے پیش کیا گیا، جج نے مجھے کہا تم 2 بار وارننگ کے باوجود یہاں داخل ہوئے، جس پر میں نے جج کو کہا کہ میرے بابائے قوم، عوام، ریاست اور میں اسرائیل کو نہیں مانتے، لہذا میں اس پر سائن نہیں کر سکتا۔ مجھے برطانوی ڈپلومیٹ نےکہا کہ یہ آپ کو آپ کے جرائم کی نئی چارج شیٹ دیں گے، آپ کی ہڈیاں اس جیل میں گل جائیں گی، 70 فیصد لوگوں نے ملک بدری کے کاغذات پر سائن کر دیے ہیں، جس پر میں نے اس سے کہا کہ ان لوگوں کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں، میں اس ناجائز ریاست کو نہیں مانتا۔ سابق سینیٹر نے مزید کہا کہ میری ہڈیاں گل جائیں، گوشت کو کیڑے کھائیں لیکن میں کسی صورت اس پر سائن نہیں کر سکتا، دستخط کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل ایک ملک ہے، جس کو میں تسلیم کرتا ہوں اور جس کے قانون کی میں نے خلاف ورزی کی ہے، جو میں کسی صورت نہیں کروں گا۔
مشاق احمد کے مطابق برطانوی سفارت کار میرے ساتھ 3 گھنٹے ایک پنجرے میں بیٹھا رہا لیکن میں نے اس کی بات کی تسلیم نہیں کی، اس حد تک اسحٰق ڈار کی بات درست ہے۔ سابق سینیٹر نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے اراکین کی رہائی کا کریڈٹ یورپی عوام کو دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کے مظاہروں کی وجہ سے اسرائیل ہمیں رہا کرنے پر مجبور ہوا۔ انہوں نے ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بیمار بچی ہے، اسے کوئی نہ کوئی بیماری لاحق رہتی ہے، اس کے باوجود اس نے 20 دن کا سمندر کا مشکل ترین سفر کیا، اسے اسرائیل کا جھنڈا چومنے پر مجبور کیا گیا، جملے کسے گئے، گریٹا کی توہین و تذلیل کی گئی، پورے عالم اسلام کو ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیئے۔
مشتاق احمد جماعت اسلامی سے مستعفیٰ
دوران شو انہوں نے جماعت اسلامی سے استعفیٰ دینے کا انکشاف بھی کیا، سابق سینیٹر نے بتایا کہ انہوں نے 19 ستمبر کو دوران سفر ہی جماعت اسلامی سے استعفیٰ دے دیا تھا، تاہم مجھے اس پر کوئی رسپانس نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ میں جماعت اسلامی کی قدر کرتا ہوں، استعفیٰ دینے پر بہت رویا، جماعت کے لوگوں کے ساتھ عزت اور احترام کا رشتہ آج بھی قائم ہے۔ استعفیٰ کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 2 سے 3 سالوں سے کچھ ایسی چیزیں ہوئی ہیں، تنظیم کی اپنی حدود ہوتی ہیں، ہم بعض اوقات انفرادی طور پر بہتر کام کر سکتے ہیں، میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنا چاہتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحٰمن میرے لیے قابل احترام ہیں، ضروری نہیں کہ اگر کوئی پارٹی چھوڑے تو لڑائی یا جھگڑے کے ساتھ چھوڑے، اصولوں، دائرہ کار یا پھر پالیسی کی بنیاد پر بعض اوقات ایسی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔ آخر میں مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ اگر غزہ امن منصوبہ کامیاب نہ ہوا تو میں جکارتہ سے مراکش تک عالم اسلام کا گلوبل فلوٹیلا ترتیب دوں گا، جس کے لیے پوری دنیا کے لوگوں کو دعوت دوں گا، تاہم میری درخواست ہے کہ ہمیں کراچی کی بندرگاہ سے جانے کی اجازت دی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلوبل صمود فلوٹیلا کے سابق سینیٹر نے مشتاق احمد نے جماعت اسلامی نے بتایا کہ ہوئے کہا کہ سے اسرائیل کرتے ہوئے کے باوجود لوگوں کے کا جھنڈا انہوں نے کیا گیا کے ساتھ تھا کہ کے لیے
پڑھیں:
آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
سٹی 42: آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے ۔
علی رضاکوڈی ایس پی انٹیلی جنس سپیشل برانچ لاہورتعینات کردیاگیا،عامر اقبال ڈی ایس پی انکوائری لاہور سے ڈی ایس پی صدر سپیشل برانچ لاہور ریجن تعینات کیا ۔ محمد خالد کاایس ڈی پی او فورٹ عباس بہاولنگر سے تبادلہ کرکے ڈی ایس پی انٹیلی جنس سپیشل برانچ گوجرانوالہ تعینات کردیا گیا
انعام الحق منتظر تقرری سے ڈی ایس پی سٹی سپیشل برانچ لاہور ریجن تعینات کیا گیا ۔ ناصر محمود کا ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم ننکانہ صاحب سے تبادلہ کرکے ڈی ایس پی انٹیلی جنس سپیشل برانچ شیخوپورہ تعینات کردیا ۔
محمد اکبر محمود ڈی ایس پی صدر لیہ سے ڈی ایس پی انویسٹی گیشن مظفرگڑھ تعینات ،محمد بشیر کوڈی ایس پی آئی اے بی شیخوپورہ ریجن تعینات کردیاگیا۔رائے عبدالغفار ڈی ایس پی ایچ پی حافظ آباد تعینات ہوگئے ۔ اشفاق احمد ڈی ایس پی سی سی ڈی مظفرگڑھ سے ڈی ایس پی سی سی ڈی کوٹ ادوتعینات ہوگئے ۔ محمد دانش ضلعی ٹریفک افسر اوکاڑہ سے ٹریفک افسر رنگ روڈ پولیس لاہورتعینات جبکہ وحید اسحاق ڈی ایس پی صدر مقام ڈولفن سکواڈ لاہورتعینات ہوگئے ۔
منصور احمد کا ایس ڈی پی او صدر بھکر سے تبادلہ کر دیا گیامنصور احمد ڈی ایس پی وی آئی پی سکیورٹی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری تعینات ہوگئے ۔محمد سعید ضلعی ٹریفک افسر سرگودھا سے ٹریفک افسر صدر سٹی ٹریفک پولیس فیصل آبادتعینات ہوئے ۔ مسعود احمد ٹریفک افسر صدر سٹی ٹریفک پولیس فیصل آباد سے ضلعی ٹریفک افسر سرگودھاتعینات ہوگئے ۔
توصیف احمد ڈی ایس پی فسادات پولیس سرگودھا سے ڈی ایس پی انویسٹی گیشن تھری فیصل آبادتعینات ،محمد ارحم ڈی ایس پی تفتیش چار انوسٹی گیشن شاخ پنجاب لاہور سے ڈی ایس پی آپریشنز سول لائنز لاہورتعینات اورعبدالواحد کو ڈی ایس پی آپریشنز کینٹ لاہورتعینات کردیاگیا
بابر علی ڈی ایس پی پریژن اسکارٹ لاہور سے ڈی ایس پی دو بٹالین پانچ پنجاب کانسٹیبلری لاہورتعینات ہوگئے ۔ محمد آصف خان ڈی ایس پی صدر مقام چنیوٹ سے ڈی ایس پی پریژن اسکارٹ لاہورتعینات کیے گئے ۔ محمد احسان اشرف ڈی ایس پی آپریشنز مزنگ لاہور سے سی پی او پنجاب لاہورتعینات کردیے گئے راؤ دلشاد علی ایس ڈی پی او سٹی رحیم یار خان سے ڈی ایس پی آپریشنز مزنگ لاہورتعینات ہوگئے ۔
آج شام و رات سے 27 جولائی تک مزید بارشوں کی پیشگوئی