اسلام ٹائمز: سابق سینیٹر نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے اراکین کی رہائی کا کریڈٹ یورپی عوام کو دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کے مظاہروں کی وجہ سے اسرائیل ہمیں رہا کرنے پر مجبور ہوا۔ انہوں نے ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بیمار بچی ہے، اسے کوئی نہ کوئی بیماری لاحق رہتی ہے، اس کے باوجود اس نے 20 دن کا سمندر کا مشکل ترین سفر کیا، اسے اسرائیل کا جھنڈا چومنے پر مجبور کیا گیا، جملے کسے گئے، گریٹا کی توہین و تذلیل کی گئی، پورے عالم اسلام کو ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیئے۔ خصوصی رپورٹ

غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے رُکن اور سابق سینیٹر مشتاق احمد نے اسرائیل قید کے دوران گزرے دنوں کی روداد بیان کر دی۔ جیو نیوز کے پروگرام ’کیپٹیل ٹاک‘ میں میزبان حامد میر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سابق سینیٹر مشتاق احمد نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے سفر، اسرائیلی فورسز کے قبضے، قید میں ظلم و جبر اور غزہ میں جاری بدترین مظالم پر تفصیلی گفتگو کی۔ مشتاق احمد نے بتایا کہ پہلے تو ہمیں یقین ہی نہیں تھا کہ ہم فلسطین پہنچ سکیں گے، تاہم خواہش اور ایک امید ضرور موجود تھی کہ شاہد ہم وہاں پہنچ جائیں، اپنے سفر میں ہم اسرائیل کا دہشت گردانہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے لانے میں کامیاب رہے۔

50 کشتیوں کو کنٹرول کرنے کیلئے اسرائیل نے پوری نیوی تعینات کی
دوران سفر بھی ہمیں معلوم تھا کہ ہم خطرے میں ہیں اور کسی بھی وقت ڈرون حملہ ہو سکتا ہے، فلوٹیلا میں موجود اراکین کو ہدایت دی گئی تھی کہ کوئی بھی کارآمد چیز اسرائیلی فورسز کے حوالے نہیں کی جائیں گی، جس کہ وجہ سے ہم نے اپنے موبائل فونز اور دیگر ضروری اشیا کو پانی میں پھینک دیا تھا۔ سابق سینیٹر کے مطابق ہماری 50 کشتیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اسرائیل نے پوری نیوی تعینات کی ہوئی تھی، پھر بھی ہمیں انٹر سیپٹ کرنے میں انہیں 12 گھنٹے کا وقت لگا، ہماری کشتی کو غزہ سے 40 کلو میٹر دور انٹرسیپٹ کیا گیا۔ جس کے تھوڑی دیر بعد 12 اسرائیلی کمانڈوز ہماری کشتی پر زبردستی آئے، اس دوران 2 بار ان کے کمانڈوز گر بھی گئے، وہ بظاہر ڈرے ہوئے لگ رہے تھے۔

اسرائیلی کمانڈوز نے پاکستانی جھنڈا اتارا، میں نے وہ اٹھا کر محفوظ کر لیا
اسرائیلی کمانڈوز نے ہماری کشتی پر آتے ہی پہلے فلسطین کا جھنڈا پھاڑا، پھر انہوں نے پاکستان کا جھنڈا اتارا، تو میں جھنڈے کو اٹھا کر محفوظ کر لیا، جس کے بعد قابض فورسز ہمیں اشدود کی بندرگاہ پر لے گئے۔ انہوں نے ہمیں وہاں الٹا لٹا دیا تھا، معمولی سی حرکت پر لات مارتے تھے، میرے ساتھ دو فوجی تعینات تھے، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو؟ تو میں نے انہیں جواب دیا کہ پاکستان سے آیا ہوں، جس پر ان فوجیوں نے پہلے پاکستان کو اور پھر مجھے گالی دی۔ مشتاق احمد نے مزید بتایا کہ جس کے بعد ہمیں اسرائیلی افواج نے اشدود سے بذیعہ قیدی وین کتزیعوت جیل منتقل کیا، اس دوران اچانک سے 20 کے قریب لوگ کچھ کتوں کے ساتھ وہاں آئے، ان کے پاس گنیں بھی تھی، ہمیں لاتیں مار کر سائیڈ پر جمع کیا گیا اور ہمارے اوپر کتوں کو چھوڑا گیا، وہ کتے ہمارے منہ تک آرہے تھے۔

جس کے بعد ہماری آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر ہمیں باہر لے جایا گیا، مغرب کے وقت نماز پڑھنے کی اجازت مانگی تاہم انہوں نے اجازت نہیں دی، اس کے باوجود ہم نے بغیر وضو اور تیمم کے کھڑے کھڑے نماز ادا کی، اسرائیلی قید کے دوران ایک دن میں نے نیلسن منڈیا کے پوتے کے ساتھ بھی گزارا، جسے میں اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں۔ وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کی جانب سے ان کی رہائی کے لیے کوششوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اسحٰق ڈار نے فون پر رابطہ کیا تھا، دوران قید برطانیہ کا ایک سفارت کار 2 بار ملا تھا، اسے میری رہائی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، بلکہ وہ ڈیپورٹیشن ڈاکیومنٹس پر میرے دستخط کروانا چاہتا تھا۔

اسرائیلی جج کو کہا، بابائے قوم، عوام، ریاست اور میں اسرائیل کو نہیں مانتے
اس دوران مجھے دو بار اسرائیلی جج کے سامنے پیش کیا گیا، جج نے مجھے کہا تم 2 بار وارننگ کے باوجود یہاں داخل ہوئے، جس پر میں نے جج کو کہا کہ میرے بابائے قوم، عوام، ریاست اور میں اسرائیل کو نہیں مانتے، لہذا میں اس پر سائن نہیں کر سکتا۔ مجھے برطانوی ڈپلومیٹ نےکہا کہ یہ آپ کو آپ کے جرائم کی نئی چارج شیٹ دیں گے، آپ کی ہڈیاں اس جیل میں گل جائیں گی، 70 فیصد لوگوں نے ملک بدری کے کاغذات پر سائن کر دیے ہیں، جس پر میں نے اس سے کہا کہ ان لوگوں کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں، میں اس ناجائز ریاست کو نہیں مانتا۔ سابق سینیٹر نے مزید کہا کہ میری ہڈیاں گل جائیں، گوشت کو کیڑے کھائیں لیکن میں کسی صورت اس پر سائن نہیں کر سکتا، دستخط کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل ایک ملک ہے، جس کو میں تسلیم کرتا ہوں اور جس کے قانون کی میں نے خلاف ورزی کی ہے، جو میں کسی صورت نہیں کروں گا۔

مشاق احمد کے مطابق برطانوی سفارت کار میرے ساتھ 3 گھنٹے ایک پنجرے میں بیٹھا رہا لیکن میں نے اس کی بات کی تسلیم نہیں کی، اس حد تک اسحٰق ڈار کی بات درست ہے۔ سابق سینیٹر نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے اراکین کی رہائی کا کریڈٹ یورپی عوام کو دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کے مظاہروں کی وجہ سے اسرائیل ہمیں رہا کرنے پر مجبور ہوا۔ انہوں نے ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بیمار بچی ہے، اسے کوئی نہ کوئی بیماری لاحق رہتی ہے، اس کے باوجود اس نے 20 دن کا سمندر کا مشکل ترین سفر کیا، اسے اسرائیل کا جھنڈا چومنے پر مجبور کیا گیا، جملے کسے گئے، گریٹا کی توہین و تذلیل کی گئی، پورے عالم اسلام کو ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیئے۔

مشتاق احمد جماعت اسلامی سے مستعفیٰ
دوران شو انہوں نے جماعت اسلامی سے استعفیٰ دینے کا انکشاف بھی کیا، سابق سینیٹر نے بتایا کہ انہوں نے 19 ستمبر کو دوران سفر ہی جماعت اسلامی سے استعفیٰ دے دیا تھا، تاہم مجھے اس پر کوئی رسپانس نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ میں جماعت اسلامی کی قدر کرتا ہوں، استعفیٰ دینے پر بہت رویا، جماعت کے لوگوں کے ساتھ عزت اور احترام کا رشتہ آج بھی قائم ہے۔ استعفیٰ کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 2 سے 3 سالوں سے کچھ ایسی چیزیں ہوئی ہیں، تنظیم کی اپنی حدود ہوتی ہیں، ہم بعض اوقات انفرادی طور پر بہتر کام کر سکتے ہیں، میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنا چاہتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحٰمن میرے لیے قابل احترام ہیں، ضروری نہیں کہ اگر کوئی پارٹی چھوڑے تو لڑائی یا جھگڑے کے ساتھ چھوڑے، اصولوں، دائرہ کار یا پھر پالیسی کی بنیاد پر بعض اوقات ایسی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔ آخر میں مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ اگر غزہ امن منصوبہ کامیاب نہ ہوا تو میں جکارتہ سے مراکش تک عالم اسلام کا گلوبل فلوٹیلا ترتیب دوں گا، جس کے لیے پوری دنیا کے لوگوں کو دعوت دوں گا، تاہم میری درخواست ہے کہ ہمیں کراچی کی بندرگاہ سے جانے کی اجازت دی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گلوبل صمود فلوٹیلا کے سابق سینیٹر نے مشتاق احمد نے جماعت اسلامی نے بتایا کہ ہوئے کہا کہ سے اسرائیل کرتے ہوئے کے باوجود لوگوں کے کا جھنڈا انہوں نے کیا گیا کے ساتھ تھا کہ کے لیے

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام