قوم کو بتایا جائے کون سے دہشتگرد کب اور کہاں بسائے گئے؟ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ 2021 میں اُس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، تاہم خیبرپختونخوا اور سابقہ قبائلی اضلاع کے منتخب نمائندوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وہ صوبائی حکومت برداشت نہیں جو آپریشن کے خلاف کھڑی ہو، ڈی جی آئی ایس پی آر
عمران خان کے مطابق اس منصوبے پر ان کے دورِ حکومت میں کوئی عمل نہیں ہوا، لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف پر یہ جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی میں اضافے کی وجہ وہی عناصر ہیں جنہیں پی ٹی آئی کے دور میں واپس بسایا گیا۔
عمران خان نے اپنے بیان میں سوال اٹھایا کہ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا: 8 ماہ کے دوران دہشتگردی کے 605 واقعات میں 138 شہری شہید ہوئے، سی ٹی ڈی
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان نے بھاری جانی و مالی قربانیاں دی ہیں، اس لیے ایسے الزامات لگانا ناانصافی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل تحریک انصاف خیبرپختونخوا دہشتگرد دہشتگردی سابق وزیر اعظم عمران خان فوجی قیادت قبائلی اضلاع.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل تحریک انصاف خیبرپختونخوا دہشتگرد دہشتگردی فوجی قیادت قبائلی اضلاع
پڑھیں:
ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
سری لنکا کی حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ فیس ختم کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں تعینات قونصل جنرل سری لنکا سنجیوا پٹیوالا نے میڈیا سے گفتگومیں بتایا کہ سری لنکن حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ فیس ختم کردی جس کے بعد سری لنکا جانے والے پاکستانیوں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے سری لنکا جانے والے ویزہ کی درخواست آن لائن دے سکتے ہیں۔
قونصل جنرل نے بتایا کہ پاکستان اور سری لنکن کے دوطرفہ تعلقات اہم ہیں، حکومت پاکستان نے 100 سری لنکن اسٹوڈنٹس کوعلامہ اقبال یونیورسٹی میں اسکالرشپ دی ہے جو ایک مثبت اقدام ہے۔
انہوں نے کاہ کہ پاکستان سری لنکا کےدرمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پرسن 2005 میں دستخط ہوئے تھے لیکن تاحال دونوں ملکوں میں ٹریڈ بیریئرز موجود ہیں۔
قونصل جنرل نے مزید کہا کہ پاکستان سری لنکا درمیان درمیان دفاعی تعلقات بھی اہم ہیں۔