اطلاع ملی کہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب کی اہلیہ‘ مالک کائنات کے حضور پیش ہو گئی ہیں۔کافی دیر اکیلا بیٹھ کر سوچتا رہا کہ ڈاکٹر صاحب کتنی تکلیف سے گزر رہے ہوںگے۔اہلیہ کا پیرانہ سالی میں خالق حقیقی کے پاس چلا جانا حد درجہ اذیت ناک ہے۔
جس پر یہ قیامت گزرتی ہے‘ صرف وہی جانتا ہے۔ قریبی رشتہ داری کی وجہ سے خالد صاحب سے دیرینہ رفاقت ہے۔ عزت و احترام کا رشتہ ہے۔ مگر ایک واقعہ نے موقعہ فراہم کیا کہ اس انسان کو اچھی طرح جان سکوں۔
چند دوستوں کی مہربانیوں کی بدولت ایک ایسی مصیبت میں مبتلا ہو گیا جس سے دور دور تک میرا کسی قسم کا تعلق نہیں تھا۔ یہ کوئی پانچ برس پہلے کی بات ہے۔ اس پر آشوب دور میں جس طرح ڈاکٹر صاحب‘ کندھے سے کندھا ملا کر میرے ساتھ کھڑے رہے،اس سے مجھے بہت حوصلہ ملا۔
ہمارے سازشی ماحول میں ‘ مخصوص افراد‘ جس کی بھی چاہے پگڑی اچھال سکتے ہیں۔ بہر حال خالد صاحب کو حد درجہ درددل رکھنے والا انسان پایا۔ جو اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ ہمیشہ مشکل سے مشکل وقت میں بھی ثابت قدمی سے ایستادہ رہے۔
خیر‘ کمال ضبط سے ڈاکٹر صاحب کو فون کیا۔ پرسا دیا۔ ان کی آواز میں شدید غم کی آمیزش تھی۔ معلوم پڑتا تھا کہ درد کی دہلیز پر کھڑے بات کر رہے ہیں۔ رفیقہ حیات سے یکدم دوری‘ پختہ عمر میں سانحہ سے بھی بڑی چیز ہے۔
لہجہ سے معلوم پڑ رہا تھا کہ آنکھوں میں وہ انمول پانی موجود ہے۔جسے آنسو کہا جاتا ہے۔ فیصل آباد جانے کاارادہ کیا۔ نماز جنازہ ‘ دوپہر ڈھائی بجے رکھی گئی تھی۔ لاہور سے فیصل آباد جانا موٹروے کے ذریعے حد درجہ آسان سفر ہے۔
جب موٹروے کے نزدیک پہنچے تو معلوم پڑا کہ وہ تو بند ہے۔ یہی عالم‘ لاہور سے براستہ شیخوپورہ روڈ کا تھا۔ ہر طرف کنٹینر لگا کر راستے بند کر دیے گئے تھے۔ لوگ شدید تکلیف میں اپنے اپنے گھروں اور شہروں کی طرف جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
دل چاہا کہ جو بھی وجہ ہو‘ وزیراعلیٰ کو کم از کم عام لوگوں کی مشکلات کا اتنا اندازہ ہونا چاہیے کہ صرف چند راستے بند کیے جانے کا حکم صادر کیا جائے۔خلق خدا کے لیے ‘ متبادل راستے ‘ کھلے رکھے جائیں۔
مگر یہاں سوچتا کون ہے؟ سمجھتا کون ہے؟ اور وزیراعلیٰ کو سنجیدہ مشورے دینے کی جرأت کون سا سرکاری بابو کر سکتا ہے؟ لاہور شہر سے نکلنے میں کم از کم‘ دو گھنٹے صرف ہوئے۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ کس روڈ سے شاہدرہ کراس کیا۔ بہر حال ساڑھے چار گھنٹے میں فیصل آباد پہنچنا ممکن ہوا۔
ڈاکٹر صاحب کے گھر گیا تو بتایا گیا کہ جنازہ اٹھایا جا چکاہے۔ خیرنزدیکی گراؤنڈ میں پہنچا ۔ تو ابھی نماز جنازہ شروع نہیں ہوئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نظر آئے تو ایسے لگا کہ انھیں پہلی بار دیکھ رہاہوں۔ ظاہری ہمت تو برقرار تھی۔
مگر پوری شخصیت پر گہرے غم اور الم کے آثار موجود تھے۔ جنازہ پڑھنے کے بعد لوگ‘ ان سے گلے مل کر افسوس کااظہار کر رہے تھے‘ جو ہماری سماجی روایت ہے۔ مگر میری اپنی کیفیت اتنی دگر گوں تھی کہ اس روایت پر پورا نہیں اتر سکا۔ کئی مقامات پر الفاظ آپ کا ساتھ نہیں دیتے۔ جملوں میں قوت اظہار ختم ہو جاتی ہے۔
خالد صاحب کے نزدیک کھڑا تھا ۔ مگر روایتی فقرے نہ کہہ پایا۔ کہ بہت افسوس ہوا ہے۔ دراصل دنیا میں کوئی ایسا آلہ ایجاد نہیں ہوا۔ جو دوسرے انسان کے درد کوماپ سکے اور وہ بھی اپنے قریبی رفیق کے دنیا سے جانے کا واقعہ۔ یقین مانیے ‘ بغلگیر ہو کر دوسرے لوگوں کی طرح یہ رسمی فقرے ادا نہ کر سکا۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ مجھے اس موت کا از حد رنج ہوا ہے۔بہر حال آبائی جنازہ گاہ پہنچا۔ جو ڈاکٹر خالد صاحب کے گھر کے بالکل نزدیک ہے۔ یہاں میرے سسر محترم چوہدری عمر دراز صاحب بھی منوں مٹی تلے محو خواب ہیں۔ تدفین کا مرحلہ بھی حد درجہ مشکل ہوتا ہے۔
مگر ہر ذی روح نے ابدی نیند سونے کے لیے اس تکلیف میں سے گزرنا ہے۔ درود و سلام اور قرآن پاک کی تلاوت کی روشنی میں‘ خاتون کو قبر میں اتارا گیا۔ خدا‘ ان کے لیے آسانیاں در آسانیاں پیدا کرے۔
کافی لوگ موجود تھے۔ لوگ‘ تدفین کو دیکھتے ہوئے‘ یہ تصور نہیں کرتے کہ یہ مرحلہ تو ان پر بھی آنا ہے۔ اس وقت کے تقدس کے لیے تو‘ دنیاداری کی باتیں چھوڑنا سیکھیں۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کو اپنے مرنے پر یقین نہیں ۔
انھیں اس بات پر اعتماد ہے کہ موت تو صرف اور صرف‘ دوسروں کے لیے بنی ہے۔ پرنہیں‘ عزیزان من‘ موت‘ ہر کسی کو اپنے مقررہ وقت پر شکار کرتی ہے۔ تمام انسان‘ ایک طویل لائن میںکھڑے ہیں۔ خدا کی طرف سے اپنے متعین وقت کے منتظر ہیں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ آج کسی کی باری ہے اور کچھ عرصہ بعد‘ یہ ہماری باری ہو گی۔ بات صرف اور صرف ادراک کی ہے۔ تدفین کے مرحلے کے بعد‘ ڈاکٹر صاحب سے ملا۔ مگر خاموش رہا۔ افسوس کے کوئی لفظ ہی نہیں تھے‘ جو غم کو شناخت کر کے ادا کیے جاسکیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اور ہونے بھی چاہئیں۔
یہ ایک فطری عمل ہے۔ آواز بھی دھیمی سی تھی۔ تدفین کے بعد‘ دعا کے بعد واپس جانے لگے ۔ تو مجھے ایسا لگا کہ ڈاکٹر خالد یکدم بہت زیادہ بوڑھے ہو چکے ہیں۔ آہستہ آہستہ قدم اٹھا رہے تھے۔دراصل موت ایک ایسا امر ہے جو لواحقین پر قیامت بن کر گزر جاتا ہے۔
انسان دیکھنے بھالنے میں تو پہلے جیسے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ مگر لمحوں میں صدیوں کا سفر عبور کر جاتا ہے۔ اس کیفیت میں آ کر کوئی نوجوان ہے ‘ تو ذہنی طور پر فوراً بوڑھا ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی پختہ عمر کا ہے تو وہ بزرگ تر ہو جاتا ہے۔ یہ داخلی مرحل ہیں‘ اور ہر شعور رکھنے والا انسان‘ یہ اندرونی سفر ضرور طے کرتا ہے۔
مجھے ‘ اس نکتہ کا اندازہ‘ اس وقت ہوا‘ جب اچانک میرے والد‘ راؤ حیات صاحب جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کی عمر‘ اس وقت ‘ ساٹھ برس اور تین ماہ تھی۔ جب ‘ والدہ نے فون پر بتایا کہ تمہارے والد فوت ہو چکے ہیں۔ تو یقین ہی نہیں آیا‘ کہ ابھی دو دن پہلے تو ملاقات ہوئی تھی۔ اکٹھے کھانا کھایا تھا۔
ان کے چند دوست بھی ہمراہ تھے۔ چہرے پر بشاشت تھی۔ پھر اچانک ‘ فوت کیسے ہو گئے۔ خیر‘ اس وقت میں جوان تھا۔ پختہ عمر کے مقابلے میں حوصلہ بھی زیادہ تھا۔ مگر ‘ تین چار دن‘ میں کوئی بات نہیں کر سکا۔ جو لوگ افسوس کرنے آتے تھے۔
ان سے ایک دو الفاظ سے زیادہ بول نہیں سکتا تھا۔ پھر والدہ نے سمجھایا کہ تمہارے والد‘ اب اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ اب کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ موت پر یقین تو تھا اور ہے۔ مگر یکدم ‘ کوئی اس طرح بچھڑ جائے گا۔ اس کا کوئی گمان تک نہیں تھا۔ کبھی کبھی یوں لگتا تھا‘ کہ ابھی گاڑی کا ہارن بجے گا۔ اور میرے والد‘ دروازہ کھول کر آرام سے اندر آ جائیں گے۔
مگر صاحب موت کے قافلے میں شامل ہونے والے کب واپس آتے ہیں۔ بالکل اسی طرح کا معاملہ والدہ کی وفات پر ہوا۔ آخری عمر میں انھیں دائیں طرف کا فالج ہو چکا تھا۔ جو دوائیوں ‘ فیزیوتھرپی سے بہت بہتر ہو گیا تھا۔ والدہ ‘ سرکاری رہائش گاہ میں‘ میرے ساتھ ہی قیام پذیر تھیں۔ دونوں بیٹے اسکول سے آنے کے بعد ‘پہلا کام یہ کرتے تھے کہ دادی کے کمرے میں جا کر ان کے پیر دباتے تھے۔ ڈھیر ساری دعائیں لیتے تھے۔
یہ دعائیں آج بھی ان کے کام آ رہی ہیں۔ والدہ کی وفات تو میرے ہاتھوں میں ہوئی۔ وہ المناک منظر ‘ آج تک میرے ذہن پر نقش ہے۔ کبھی بھلا ہی نہیں پایا۔ لوگ کہتے ہیں کہ وقت‘ تمام غموں کا مداوا ہے۔
ذاتی تجربہ یہ ہے کہ اپنے عزیزوں کے جانے کا دکھ‘ وقت کے ساتھ ساتھ مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔ بس انسان ‘ اس دکھ کے ساتھ‘ سانس لینا سیکھ لیتا ہے۔ شاید ہی زندگی ہے ۔ ویسے دن کاکوئی ایسا لمحہ نہیں ہے جب میںا پنے بچھڑنے والے عزیز واقارب کے لیے دل ہی دل میں دعا نہیں کرتا۔ یہ مندمل نہ ہونے والے زخم ہیں۔ جن سے یادوں کا لہو ہر دم‘ رستا رہتا ہے۔
ڈاکٹر خالد صاحب‘ جب تدفین کے بعد‘ آہستہ آہستہ ‘ قدم اٹھاتے ہوئے اپنے گھر جا رہے تھے۔ تو میں سوچ رہا تھا کہ اب وہ بالکل تنہا رہ گئے ہیں۔ ماشاء اللہ ‘ صاحب اولاد ہیں۔ تمام بچے‘ اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔
مگر اولاد سے تو انسان‘ دل کی ہر بات نہیں کر سکتا۔ کئی ایسی خوشیاں ‘ غم اور الجھنیں ہوتی ہیں جن کی بابت مرد‘ صرف اور صرف اپنی شریک حیات سے ہی ذکر کرتا ہے۔ زندگی کی کئی ایسی ویرانیاں ہوتی ہیں۔ جو انسان کی اہلیہ ہی جانتی ہے۔
اور ان کا مداوا ‘ اچھے الفاظ کی صورت میں ضرور کرتی ہے۔ شادی کے بعد ہر مرد اور عورت‘ سنجیدگی کے ان مراحل سے گزرتے ہیں‘ جن کو صرف وہ دونوں ہی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بھی قدرت کے انمٹ اصولوں میں سے ایک فطری کلیہ ہے۔
مجھے تو ایسا لگتا ہے‘ کہ ہم سارے ایک بہت بڑے درخت کے پتے ہیں۔ اپنے مقررہ وقت پر‘ شاخ سے علیحدہ ہو کر راہ فنا پر گر جاتے ہیں۔ یہ پت جھڑ کا موسم اور وقت ‘ ہر بشر کے لیے علیحدہ اور جدا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر صاحب ڈاکٹر خالد خالد صاحب جاتا ہے رہے تھے جانے کا نہیں کر کے بعد کے لیے
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔