Express News:
2026-07-24@09:04:00 GMT

پت جھڑ

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

اطلاع ملی کہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب کی اہلیہ‘ مالک کائنات کے حضور پیش ہو گئی ہیں۔کافی دیر اکیلا بیٹھ کر سوچتا رہا کہ ڈاکٹر صاحب کتنی تکلیف سے گزر رہے ہوںگے۔اہلیہ کا پیرانہ سالی میں خالق حقیقی کے پاس چلا جانا حد درجہ اذیت ناک ہے۔

جس پر یہ قیامت گزرتی ہے‘ صرف وہی جانتا ہے۔ قریبی رشتہ داری کی وجہ سے خالد صاحب سے دیرینہ رفاقت ہے۔ عزت و احترام کا رشتہ ہے۔ مگر ایک واقعہ نے موقعہ فراہم کیا کہ اس انسان کو اچھی طرح جان سکوں۔

چند دوستوں کی مہربانیوں کی بدولت ایک ایسی مصیبت میں مبتلا ہو گیا جس سے دور دور تک میرا کسی قسم کا تعلق نہیں تھا۔ یہ کوئی پانچ برس پہلے کی بات ہے۔ اس پر آشوب دور میں جس طرح ڈاکٹر صاحب‘ کندھے سے کندھا ملا کر میرے ساتھ کھڑے رہے،اس سے مجھے بہت حوصلہ ملا۔

ہمارے سازشی ماحول میں ‘ مخصوص افراد‘ جس کی بھی چاہے پگڑی اچھال سکتے ہیں۔ بہر حال خالد صاحب کو حد درجہ درددل رکھنے والا انسان پایا۔ جو اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ ہمیشہ مشکل سے مشکل وقت میں بھی ثابت قدمی سے ایستادہ رہے۔

خیر‘ کمال ضبط سے ڈاکٹر صاحب کو فون کیا۔ پرسا دیا۔ ان کی آواز میں شدید غم کی آمیزش تھی۔ معلوم پڑتا تھا کہ درد کی دہلیز پر کھڑے بات کر رہے ہیں۔ رفیقہ حیات سے یکدم دوری‘ پختہ عمر میں سانحہ سے بھی بڑی چیز ہے۔

لہجہ سے معلوم پڑ رہا تھا کہ آنکھوں میں وہ انمول پانی موجود ہے۔جسے آنسو کہا جاتا ہے۔ فیصل آباد جانے کاارادہ کیا۔ نماز جنازہ ‘ دوپہر ڈھائی بجے رکھی گئی تھی۔ لاہور سے فیصل آباد جانا موٹروے کے ذریعے حد درجہ آسان سفر ہے۔

جب موٹروے کے نزدیک پہنچے تو معلوم پڑا کہ وہ تو بند ہے۔ یہی عالم‘ لاہور سے براستہ شیخوپورہ روڈ کا تھا۔ ہر طرف کنٹینر لگا کر راستے بند کر دیے گئے تھے۔ لوگ شدید تکلیف میں اپنے اپنے گھروں اور شہروں کی طرف جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

دل چاہا کہ جو بھی وجہ ہو‘ وزیراعلیٰ کو کم از کم عام لوگوں کی مشکلات کا اتنا اندازہ ہونا چاہیے کہ صرف چند راستے بند کیے جانے کا حکم صادر کیا جائے۔خلق خدا کے لیے ‘ متبادل راستے ‘ کھلے رکھے جائیں۔

مگر یہاں سوچتا کون ہے؟ سمجھتا کون ہے؟ اور وزیراعلیٰ کو سنجیدہ مشورے دینے کی جرأت کون سا سرکاری بابو کر سکتا ہے؟ لاہور شہر سے نکلنے میں کم از کم‘ دو گھنٹے صرف ہوئے۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ کس روڈ سے شاہدرہ کراس کیا۔ بہر حال ساڑھے چار گھنٹے میں فیصل آباد پہنچنا ممکن ہوا۔

ڈاکٹر صاحب کے گھر گیا تو بتایا گیا کہ جنازہ اٹھایا جا چکاہے۔ خیرنزدیکی گراؤنڈ میں پہنچا ۔ تو ابھی نماز جنازہ شروع نہیں ہوئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نظر آئے تو ایسے لگا کہ انھیں پہلی بار دیکھ رہاہوں۔ ظاہری ہمت تو برقرار تھی۔

مگر پوری شخصیت پر گہرے غم اور الم کے آثار موجود تھے۔ جنازہ پڑھنے کے بعد لوگ‘ ان سے گلے مل کر افسوس کااظہار کر رہے تھے‘ جو ہماری سماجی روایت ہے۔ مگر میری اپنی کیفیت اتنی دگر گوں تھی کہ اس روایت پر پورا نہیں اتر سکا۔ کئی مقامات پر الفاظ آپ کا ساتھ نہیں دیتے۔ جملوں میں قوت اظہار ختم ہو جاتی ہے۔

خالد صاحب کے نزدیک کھڑا تھا ۔ مگر روایتی فقرے نہ کہہ پایا۔ کہ بہت افسوس ہوا ہے۔ دراصل دنیا میں کوئی ایسا آلہ ایجاد نہیں ہوا۔ جو دوسرے انسان کے درد کوماپ سکے اور وہ بھی اپنے قریبی رفیق کے دنیا سے جانے کا واقعہ۔ یقین مانیے ‘ بغلگیر ہو کر دوسرے لوگوں کی طرح یہ رسمی فقرے ادا نہ کر سکا۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ مجھے اس موت کا از حد رنج ہوا ہے۔بہر حال آبائی جنازہ گاہ پہنچا۔ جو ڈاکٹر خالد صاحب کے گھر کے بالکل نزدیک ہے۔ یہاں میرے سسر محترم چوہدری عمر دراز صاحب بھی منوں مٹی تلے محو خواب ہیں۔ تدفین کا مرحلہ بھی حد درجہ مشکل ہوتا ہے۔

مگر ہر ذی روح نے ابدی نیند سونے کے لیے اس تکلیف میں سے گزرنا ہے۔ درود و سلام اور قرآن پاک کی تلاوت کی روشنی میں‘ خاتون کو قبر میں اتارا گیا۔ خدا‘ ان کے لیے آسانیاں در آسانیاں پیدا کرے۔

کافی لوگ موجود تھے۔ لوگ‘ تدفین کو دیکھتے ہوئے‘ یہ تصور نہیں کرتے کہ یہ مرحلہ تو ان پر بھی آنا ہے۔ اس وقت کے تقدس کے لیے تو‘ دنیاداری کی باتیں چھوڑنا سیکھیں۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کو اپنے مرنے پر یقین نہیں ۔

انھیں اس بات پر اعتماد ہے کہ موت تو صرف اور صرف‘ دوسروں کے لیے بنی ہے۔ پرنہیں‘ عزیزان من‘ موت‘ ہر کسی کو اپنے مقررہ وقت پر شکار کرتی ہے۔ تمام انسان‘ ایک طویل لائن میںکھڑے ہیں۔ خدا کی طرف سے اپنے متعین وقت کے منتظر ہیں۔

فرق صرف اتنا ہے کہ آج کسی کی باری ہے اور کچھ عرصہ بعد‘ یہ ہماری باری ہو گی۔ بات صرف اور صرف ادراک کی ہے۔ تدفین کے مرحلے کے بعد‘ ڈاکٹر صاحب سے ملا۔ مگر خاموش رہا۔ افسوس کے کوئی لفظ ہی نہیں تھے‘ جو غم کو شناخت کر کے ادا کیے جاسکیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اور ہونے بھی چاہئیں۔

یہ ایک فطری عمل ہے۔ آواز بھی دھیمی سی تھی۔ تدفین کے بعد‘ دعا کے بعد واپس جانے لگے ۔ تو مجھے ایسا لگا کہ ڈاکٹر خالد یکدم بہت زیادہ بوڑھے ہو چکے ہیں۔ آہستہ آہستہ قدم اٹھا رہے تھے۔دراصل موت ایک ایسا امر ہے جو لواحقین پر قیامت بن کر گزر جاتا ہے۔

انسان دیکھنے بھالنے میں تو پہلے جیسے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ مگر لمحوں میں صدیوں کا سفر عبور کر جاتا ہے۔ اس کیفیت میں آ کر کوئی نوجوان ہے ‘ تو ذہنی طور پر فوراً بوڑھا ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی پختہ عمر کا ہے تو وہ بزرگ تر ہو جاتا ہے۔ یہ داخلی مرحل ہیں‘ اور ہر شعور رکھنے والا انسان‘ یہ اندرونی سفر ضرور طے کرتا ہے۔

مجھے ‘ اس نکتہ کا اندازہ‘ اس وقت ہوا‘ جب اچانک میرے والد‘ راؤ حیات صاحب جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کی عمر‘ اس وقت ‘ ساٹھ برس اور تین ماہ تھی۔ جب ‘ والدہ نے فون پر بتایا کہ تمہارے والد فوت ہو چکے ہیں۔ تو یقین ہی نہیں آیا‘ کہ ابھی دو دن پہلے تو ملاقات ہوئی تھی۔ اکٹھے کھانا کھایا تھا۔

ان کے چند دوست بھی ہمراہ تھے۔ چہرے پر بشاشت تھی۔ پھر اچانک ‘ فوت کیسے ہو گئے۔ خیر‘ اس وقت میں جوان تھا۔ پختہ عمر کے مقابلے میں حوصلہ بھی زیادہ تھا۔ مگر ‘ تین چار دن‘ میں کوئی بات نہیں کر سکا۔ جو لوگ افسوس کرنے آتے تھے۔

ان سے ایک دو الفاظ سے زیادہ بول نہیں سکتا تھا۔ پھر والدہ نے سمجھایا کہ تمہارے والد‘ اب اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ اب کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ موت پر یقین تو تھا اور ہے۔ مگر یکدم ‘ کوئی اس طرح بچھڑ جائے گا۔ اس کا کوئی گمان تک نہیں تھا۔ کبھی کبھی یوں لگتا تھا‘ کہ ابھی گاڑی کا ہارن بجے گا۔ اور میرے والد‘ دروازہ کھول کر آرام سے اندر آ جائیں گے۔

مگر صاحب موت کے قافلے میں شامل ہونے والے کب واپس آتے ہیں۔ بالکل اسی طرح کا معاملہ والدہ کی وفات پر ہوا۔ آخری عمر میں انھیں دائیں طرف کا فالج ہو چکا تھا۔ جو دوائیوں ‘ فیزیوتھرپی سے بہت بہتر ہو گیا تھا۔ والدہ ‘ سرکاری رہائش گاہ میں‘ میرے ساتھ ہی قیام پذیر تھیں۔ دونوں بیٹے اسکول سے آنے کے بعد ‘پہلا کام یہ کرتے تھے کہ دادی کے کمرے میں جا کر ان کے پیر دباتے تھے۔ ڈھیر ساری دعائیں لیتے تھے۔

یہ دعائیں آج بھی ان کے کام آ رہی ہیں۔ والدہ کی وفات تو میرے ہاتھوں میں ہوئی۔ وہ المناک منظر ‘ آج تک میرے ذہن پر نقش ہے۔ کبھی بھلا ہی نہیں پایا۔ لوگ کہتے ہیں کہ وقت‘ تمام غموں کا مداوا ہے۔

ذاتی تجربہ یہ ہے کہ اپنے عزیزوں کے جانے کا دکھ‘ وقت کے ساتھ ساتھ مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔ بس انسان ‘ اس دکھ کے ساتھ‘ سانس لینا سیکھ لیتا ہے۔ شاید ہی زندگی ہے ۔ ویسے دن کاکوئی ایسا لمحہ نہیں ہے جب میںا پنے بچھڑنے والے عزیز واقارب کے لیے دل ہی دل میں دعا نہیں کرتا۔ یہ مندمل نہ ہونے والے زخم ہیں۔ جن سے یادوں کا لہو ہر دم‘ رستا رہتا ہے۔ 

ڈاکٹر خالد صاحب‘ جب تدفین کے بعد‘ آہستہ آہستہ ‘ قدم اٹھاتے ہوئے اپنے گھر جا رہے تھے۔ تو میں سوچ رہا تھا کہ اب وہ بالکل تنہا رہ گئے ہیں۔ ماشاء اللہ ‘ صاحب اولاد ہیں۔ تمام بچے‘ اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔

مگر اولاد سے تو انسان‘ دل کی ہر بات نہیں کر سکتا۔ کئی ایسی خوشیاں ‘ غم اور الجھنیں ہوتی ہیں جن کی بابت مرد‘ صرف اور صرف اپنی شریک حیات سے ہی ذکر کرتا ہے۔ زندگی کی کئی ایسی ویرانیاں ہوتی ہیں۔ جو انسان کی اہلیہ ہی جانتی ہے۔

اور ان کا مداوا ‘ اچھے الفاظ کی صورت میں ضرور کرتی ہے۔ شادی کے بعد ہر مرد اور عورت‘ سنجیدگی کے ان مراحل سے گزرتے ہیں‘ جن کو صرف وہ دونوں ہی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بھی قدرت کے انمٹ اصولوں میں سے ایک فطری کلیہ ہے۔

مجھے تو ایسا لگتا ہے‘ کہ ہم سارے ایک بہت بڑے درخت کے پتے ہیں۔ اپنے مقررہ وقت پر‘ شاخ سے علیحدہ ہو کر راہ فنا پر گر جاتے ہیں۔ یہ پت جھڑ کا موسم اور وقت ‘ ہر بشر کے لیے علیحدہ اور جدا ہے۔ 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر صاحب ڈاکٹر خالد خالد صاحب جاتا ہے رہے تھے جانے کا نہیں کر کے بعد کے لیے

پڑھیں:

ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔

ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟

یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔

آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔

’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘

کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔

ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔

بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔

قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔

سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹر

چند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔

یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیے

ایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔

عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟

مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘

ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف