رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے کیمسٹری کے شعبے میں 2025 کا نوبل انعام ممتاز سعودی سائنسدان عمر مونس یاغی کو دینے کا اعلان کیا ہے جو مملکت سعودی عرب اور عرب دنیا کے لیے ایک اور قابلِ فخر سنگِ میل ہے۔

یہ اعزاز انہیں میٹل آرگینگ فریم ورکس کی تخلیق، گیسوں کو محفوظ کرنے اور ہوا سے پانی حاصل کرنے کے میدان میں انقلابی کام کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب میں شامی جڑواں بچیوں کی کامیاب علیحدگی، انسانیت اور میڈیکل سائنس کی نئی مثال

یہ نوبل انعام، عمر یاغی کے ہمراہ آسٹریلوی سائنسدان رچرڈ رابسن اور جاپانی محقق سوسومو کتاگاوا کو مشترکہ طور پر دیا گیا جنہوں نے مل کر نیٹ ورک کیمسٹری کی بنیاد رکھی، یہ ایک ایسا نیا سائنسی شعبہ ہے جس نے مادی سائنس، ماحولیات اور توانائی کے میدان میں انقلاب برپا کر دیا۔

شاہ سلمان اور ولی عہد کا شکریہ

ایوارڈ کے اعلان کے بعد اپنے باضابطہ بیان میں، پروفیسر عمر یاغی نے ایک سعودی شہری ہونے پر گہرے فخر کا اظہار کرتے ہوئے خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی مملکت کی اس سائنسی ثقافت کا ثمر ہے جسے دانشمند قیادت نے وژن 2030 کے تحت نہ صرف پروان چڑھایا بلکہ عالمی معیار تک لے جانے کا عزم کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: انعام جیتنے والی خاتون کی بہت مدد کی تھی، ٹرمپ کا نوبیل پرائز نہ ملنے کے بعد پہلا ردعمل

ان کا کہنا تھا کہ میں اس انعام کو سعودی نوجوانوں کے لیے تحریک کا ذریعہ سمجھتا ہوں تاکہ وہ تحقیق، ایجادات اور علم کے میدان میں نئی بلندیاں حاصل کریں۔

میٹل آرگینگ فریم ورکس

جدید کیمسٹری کی اُن نمایاں ایجادات میں سے ہیں جو ہائیڈروجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی گیسوں کو مؤثر طریقے سے محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ان کا استعمال خشک اور صحرائی علاقوں میں ہوا سے پانی نکالنے جیسی اختراعی ٹیکنالوجیز میں بھی کیا جا رہا ہے، یہ ایک ایسا میدان ہے جس پر پروفیسر یاغی نے حالیہ برسوں میں خاص توجہ مرکوز کی۔

تعلیمی پس منظر

پروفیسر عمر یاغی 1965 میں اردن کے شہر عمان میں ایک فلسطینی نژاد خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا کا رُخ کیا اور کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات نئے دور میں داخل، سرمایہ کاری کے لیے پُرعزم ہیں، سعودی شہزادہ

وہ اس وقت یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں کیمسٹری کے پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

انہیں ‘ریٹیکیولر کیمسٹری’ کے بانی کے طور پر جانا جاتا ہے جو ایک ایسا سائنسی شعبہ ہے جو مالیکیولز کو مخصوص جیومیٹری میں ترتیب دے کر توانائی، ماحول اور سمارٹ میٹریلز میں استعمال کے قابل بناتا ہے۔

قومی افتخار اور وژن 2030 کی کامیابی

عمر یاغی کا نوبل انعام جیتنا نہ صرف سعودی عرب بلکہ پوری عرب دنیا کے لیے ایک تاریخی اعزاز ہے۔ یہ کامیابی اس وژن کا عملی مظہر ہے جو سعودی وژن 2030 کے تحت سائنسی تحقیق، ایجادات اور عالمی معیار کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے مرتب کیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سائنس سعودی عرب کیمسٹری نوبیل انعام.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کیمسٹری نوبیل انعام عمر یاغی وژن 2030 کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا