غزہ: ٹرمپ امن معاہدے کے باوجود اسرائیلی بربریت جاری، صیہونی فوج کے وحشیانہ حملوں میں 9 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
غزہ: ٹرمپ امن معاہدے پر دستخط کے باوجود غزہ پر اسرائیلی بربریت کا سلسلہ تھم نہ سکا، قابض فوج کی تازہ بمباری میں غزہ کے مختلف علاقوں میں 9 فلسطینی شہید ہوگئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ میں تازہ ترین فضائی اور زمینی حملوں میں مزید 9 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے، جب کہ غزہ کے کئی علاقے اب بھی ملبے کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابقشجاعیہ کے رہائشی علاقے میں اسرائیلی فورسز نے بلا اشتعال فائرنگ اور بمباری کے دوران 5 فلسطینیوں کو شہید کردیا، جبکہ جنوبی غزہ کے خان یونس میں اسرائیلی ڈرون نے ایک گھر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
غزہ کی مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تباہ حال عمارتوں کے ملبے تلے سے مزید 250 شہدا کی لاشیں نکالی گئی ہیں، بھاری مشینری کی کمی اور بارودی مواد کے پھیلاؤ کے باعث ریسکیو کارروائیاں نہایت سست رفتاری سے جاری ہیں۔
دوسری جانب عرب میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی قید سے رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں نے حراستی مراکز میں روا رکھے جانے والے تشدد، ذلت اور اذیت ناک سلوک کی لرزہ خیز تفصیلات بیان کی ہیں۔ ایک سابق قیدی نے اسرائیل کی معروف اوفر جیل کو ذبح خانہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ قیدیوں کو دن رات تشدد اور بھوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ریڈ کراس کو اسرائیلی حکام کی جانب سے 45 فلسطینی قیدیوں کی لاشیں موصول ہوئیں، جبکہ تقریباً 2 ہزار قیدی رہا کیے گئے جن میں سے 154 کو مصر منتقل کر دیا گیا ہے۔
7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں اب تک شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 67 ہزار 869 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 170,105 تک پہنچ گئی ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ امن معاہدے کے باوجود اسرائیلی جارحیت کا تسلسل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خطے میں امن ابھی ایک دور کا خواب ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔