انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں ایک بار پھر توسیع
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں ایک بار پھر توسیع کر دی۔
ایف بی آر نے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں 16 دن کی توسیع کی ہے۔
یہ بات فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے جاری نوٹیفکیشن میں بتائی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مالی سال 2025ء کے لیے انکم ٹیکس کے گوشوارے اب 31 اکتوبر 2025ء تک جمع کرائے جا سکتے ہیں۔
ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق اب تک 51 لاکھ لوگوں نے ٹیکس ریٹرنز فائل کیے ہیں، جبکہ گزشتہ سال 15 اکتوبر تک 46 لاکھ افراد نے ٹیکس ریٹرنز جمع کرائے تھے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں 30 ستمبر کو 15 دن کی توسیع کی تھی۔
ایف بی آر کی جانب سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 اکتوبر 2025ء تک بڑھائی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی ایف بی ا ر
پڑھیں:
100 روپے کا موبائل لوڈ کروانے پر اصل بیلنس کتنا ملتا ہے؟ ٹیکس کی مکمل تفصیل سامنے آگئی
اسلام آباد: 100 روپے موبائل لوڈ پر کتنا بیلنس ملتا ہے، یہ سوال اکثر موبائل صارفین کے ذہن میں آتا ہے۔ پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والے لاکھوں پری پیڈ صارفین ہر ریچارج پر مختلف ٹیکس ادا کرتے ہیں، جس کے باعث مکمل رقم بطور بیلنس دستیاب نہیں ہوتی۔
موجودہ ٹیکس نظام کے مطابق اگر کوئی صارف 100 روپے کا موبائل لوڈ کرواتا ہے تو اس کے موبائل اکاؤنٹ میں استعمال کے لیے صرف 72 روپے 77 پیسے کا بیلنس دستیاب ہوتا ہے، جبکہ 27 روپے 23 پیسے مختلف ٹیکسوں کی مد میں منہا کر لیے جاتے ہیں۔
100 روپے کے لوڈ پر کتنی کٹوتی ہوتی ہے؟
سرکاری ٹیکس نظام کے مطابق سب سے پہلے 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 13 روپے 4 پیسے کٹ جاتے ہیں۔
اس کے بعد باقی رہ جانے والی رقم پر 19.5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST) عائد کیا جاتا ہے، جس کے باعث مزید تقریباً 14 روپے 19 پیسے کی کٹوتی ہوتی ہے۔
یوں مجموعی طور پر 100 روپے موبائل لوڈ پر کتنا بیلنس ملتا ہے کا جواب یہ ہے کہ صارف کو صرف 72.77 روپے ہی استعمال کے لیے ملتے ہیں۔
پری پیڈ صارفین پر زیادہ بوجھ
ماہرین کے مطابق پری پیڈ موبائل صارفین مجموعی طور پر تقریباً 34.5 فیصد ٹیکس کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 20 کروڑ سے زائد موبائل صارفین موجود ہیں، جن میں بڑی تعداد پری پیڈ کنکشن استعمال کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل سروسز اور انٹرنیٹ پر زیادہ ٹیکس عائد ہونے سے ڈیجیٹل معیشت کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ کم آمدنی والے صارفین کے لیے رابطے اور انٹرنیٹ کی سہولت مزید مہنگی ہو جاتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موبائل سروسز پر ٹیکسوں میں کمی سے نہ صرف عوام کو ریلیف مل سکتا ہے بلکہ ڈیجیٹل خدمات کے استعمال میں بھی اضافہ ممکن ہے۔