سینٹر فار ایروسپیس اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز کے ویبینار میں پاکستان کی معاشی سلامتی کے لیے مالی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 16 October, 2025 سب نیوز

اسلام اباد میں 15 اکتوبر 2025 کو “مالی شمولیت برائے معاشی سلامتی“ کے عنوان سے ایک ویبینار کا انعقاد کیا. اس تقریب میں ماہرین نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ کس طرح جامع مالی نظام پاکستان کی معاشی و سماجی استحکام اور قومی ترقی کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر عثمان چوہان مشیر برائے معاشی امور و قومی ترقی CASS نے پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی میں معاشی ستون کی اہمیت پر زور دیا اور یہ مؤ قف پیش کیا کہ قومی سلامتی کا انحصار وسیع اور مضبوط مالی شمولیت پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کے نظریے کے مطابق پاکستانی عوام کو ایک شراکتی اور خود مختار معیشت تشکیل دینی چاہیے تاکہ وہ قومی ترقی میں براہ راست اور دیر پا شمولیت اختیار کر سکیں۔ اس سے ایسی مادی بنیاد پیدا ہوگی جو ہر شہری کو قومی مفاد کے لیے یکجا کرے گی۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ مالی شمولیت شہریوں کو ملک کی خوشحالی کا فعال شراکت دار بناتی ہے جو معاشی و سماجی سلامتی دونوں کو مضبوط بناتی ہے۔

موبی لنک مائکرو فائنانس کی ایگزیکٹو مینجر محترمہ قرۃ العین چوہدری نے زور دیا کہ مالی خواندگی قومی شمولیت اور استحکام کے لیے ناگریز ہے کیونکہ باشعور قوم ہی مضبوط قوم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی شمولیت کا انحصار مالی تسلسل پر ہے جس کے لیے ایک کثیر الجاتی معاون نظام درکار ہے جو مالیات کو صحت اور تعلیم جیسے دیگر گھریلو تقاضوں سے جوڑے۔ انہوں نے خواتین پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا جو آبادی کی اکثریت ہونے کے باوجود مالی فیصلہ سازی میں محصر کردار ادا نہیں کر پاتی۔ محترمہ نے صنفی بنیاد پر علیحدہ اعداد و شمار، خواتین کی ڈیجیٹل ملکیت اور اداروں کے باہمی تعاون کو پاکستان میں پائیدار مالی شمولیت کے لیے ناگزیر قرار دیا ۔

دوسری مقرر محترمہ ایشل عروج ریسرچ ایسوسییٹ پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی نے نشاندہی کی کہ اگرچہ پاکستان میں رسمی مالی نظام تک رسائی میں بہتری آئی ہے تاہم تسلسل زیادہ اہم ہے کیونکہ باضابطہ شمولیت کے بعد بہت سے افراد مالی نظام سے قطع ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ باضابطلگی خود بخود تحفظ کی ضمانت نہیں دیتی کیونکہ فراڈ اور جعلسازی جیسے خطرات عام عوام کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے رد عمل کے بجائے پیشگی تحفظ کے نقطہ نظر پر زور دیتے ہوئے شکایات کی ازالے اور مالی خواندگی کو اعتماد سازی کے لیے ضروری قرار دیا۔ محترمہ عروج نے پانچ پالیسی ترجیحات پیش کی: نظاموں کے درمیان بہتر انضمام ,مضبوط ڈیٹا تحفظ, صنفی لحاظ سے حساس اقدامات ، افترائی نگرانی کے لیے ریگولیٹری سینڈ باکس اور وزارتوں کے درمیان پالیسی ہم اہنگی ۔

اختتامی کلمات میں صدر ایئر مارشل جاوید احمد ریٹائرڈ نے کہا کہ مالی شمولیت پاکستان کی معاشی سلامتی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے مربوط قومی کوششوں پر زور دیا تاکہ ایک ایسا مالی طور پر جامع پاکستان تشکیل دیا جا سکے جہاں پر ہر شہری پائیدار اور مشترکہ خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالنے کے قابل ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین پاک افغان تعلقات میں مسلسل بہتری کیلئے تعمیری کردار ادا کرنےکو تیار ہے،چینی وزارت خارجہ خیبرپختونخوا: سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الخوارج کے 34 دہشتگرد جہنم واصل اسلام آباد ہائیکورٹ کا کتوں کو ہلاک کرنے پر متعلقہ حکام کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا عندیہ نو منتخب وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا اپنے عہدے کا حلف لینے کے فوری بعد بانی چیئر مین پی ٹی آئی.

.. پاکستان کا سلامتی کونسل میں لیبیا کے خودمختار سیاسی حل کی حمایت کا اعادہ پاک فوج کی منہ توڑ جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان گھٹنے ٹیکنے پر مجبور، جنگ بندی کی درخواست کردی حکومتِ نے ٹی ایل پی واقعے پر فیک نیوز نیٹ ورکس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر دی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پاکستان کی معاشی معاشی سلامتی مالی شمولیت پر زور دیا انہوں نے کہ مالی کیا کہ کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی