پاکستان میں دہائیوں بعد سرد ترین سردی متوقع، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
پاکستان اس سال دہائیوں کی شدید ترین موسمِ سرما کا سامنا کرے گا، جب کہ ماہرین نے لا نینا کے اثرات کے باعث غیر معمولی درجہ حرارت میں کمی کی پیش گوئی کی ہے۔
اقوام متحدہ اور انٹرسیکٹر کوآرڈینیشن گروپ (ISCG) کی تازہ رپورٹ کے مطابق، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور شمالی پنجاب میں درجہ حرارت معمول سے کئی ڈگری کم رہنے کا امکان ہے، جبکہ جنوبی علاقوں میں ہلکی یا معمول کی بارشیں متوقع ہیں۔
ماہرین کے مطابق لا نینا اس وقت بنتی ہے جب بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے کم ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں غیر معمولی موسمی تبدیلیاں، بارشوں اور ٹھنڈ میں اضافہ ہوتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پہلے ہی غذائی قلت، صحت کے مسائل اور رہائشی مشکلات موجود ہیں، اور اب شدید سردی ان مسائل کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ فصلوں کی کٹائی میں تعطل، ڈینگی اور دیگر وبائی امراض میں اضافہ، اور پہاڑی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ اس سردی کے موسم کو مزید خطرناک بنا سکتا ہے۔
فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق، پنجاب میں 12 لاکھ ہیکٹر زرعی زمین سیلاب کے دوران زیرِ آب آگئی، جس سے چاول، کپاس اور گنے کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔ ربیع سیزن کی بوائی بھی متاثر ہوئی ہے، جس سے خوراک اور روزگار کا بحران گہرا ہو گیا ہے۔
صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 229,000 سے زائد گھروں کی تباہی کے باعث لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے سرد موسم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جس سے نزلہ، زکام، ٹائیفائیڈ، ہیضہ اور ڈینگی کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
امریکی نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے مطابق، لا نینا کی موجودہ لہر ستمبر 2025 میں شروع ہوئی اور اس کے فروری 2026 تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
Google سیلفی ویڈیو فیچر، اکاؤنٹ سائن اِن مزید محفوظ بنانے کا نیا طریقہ
کیلیفورنیا: گوگل سیلفی ویڈیو فیچر متعارف کرا دیا گیا ہے، جس کے ذریعے صارفین اپنے گوگل اکاؤنٹ میں سائن اِن اور اکاؤنٹ ریکوری کے دوران مختصر سیلفی ویڈیو کے ذریعے اپنی شناخت کی تصدیق کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق اس نئے نظام کا مقصد آن لائن فراڈ، ڈیپ فیک ٹیکنالوجی اور اکاؤنٹ ہیکنگ جیسے بڑھتے ہوئے خطرات سے صارفین کو بہتر تحفظ فراہم کرنا ہے۔
گوگل کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق یہ فیچر روایتی تصدیقی طریقوں کا متبادل ہوگا، خاص طور پر ایسے مواقع پر جب صارف پاس ورڈ، فون نمبر یا دیگر ریکوری ذرائع استعمال نہ کر سکے۔
سیلفی ویڈیو کے ذریعے تصدیق کیسے ہوگی؟
اس نئے نظام کے تحت صارف کو ایک مختصر لائیو ویڈیو ریکارڈ کرنا ہوگی، جسے گوگل شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال کرے گا۔ بعد ازاں جب بھی اکاؤنٹ ریکوری یا سائن اِن کی ضرورت ہوگی تو صارف کو دوبارہ لائیو ویڈیو کے ذریعے اپنی شناخت ثابت کرنا ہوگی۔
ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران صارف کو اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق اپنا سر مختلف سمتوں میں حرکت دینا ہوگی۔ اس عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تصدیق حقیقی شخص کی ہو اور کسی تصویر یا ڈیپ فیک ویڈیو کے ذریعے سسٹم کو دھوکا نہ دیا جا سکے۔
صارفین کا ڈیٹا کیسے محفوظ رہے گا؟
گوگل کا کہنا ہے کہ گوگل سیلفی ویڈیو فیچر کے تحت محفوظ کی جانے والی ویڈیوز جدید انکرپشن ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ رکھی جائیں گی۔ اس کے علاوہ صارفین کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ اپنے گوگل اکاؤنٹ کے ڈیش بورڈ سے کسی بھی وقت اپنی محفوظ کردہ سیلفی ویڈیو حذف کر سکیں۔
فیچر کہاں دستیاب ہوگا؟
کمپنی کے مطابق اس نئے فیچر کا اجرا مرحلہ وار کیا جا رہا ہے، جس کے باعث یہ دنیا بھر کے صارفین تک بتدریج پہنچے گا۔
اگر آپ کے اکاؤنٹ میں یہ سہولت دستیاب ہو تو اسے فعال کرنے کے لیے گوگل اکاؤنٹ کی Settings میں جائیں، پھر Security & Sign-in کے آپشن کو منتخب کریں اور وہاں موجود Selfie Video فیچر کو آن کر کے اسکرین پر دی گئی ہدایات پر عمل کریں۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی فراڈ میں اضافے کے بعد بایومیٹرک تصدیقی نظام آن لائن اکاؤنٹس کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ گوگل کا یہ اقدام صارفین کی ڈیجیٹل سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔