Express News:
2026-06-03@08:11:39 GMT

نئے چیلنجز

اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT

سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی بطور وزیر اعلی تبدیلی ناگزیر تھی اور واضح نظر آرہا تھا کہ ان کے اور بانی پی ٹی آئی کے درمیان حکمت عملی اور سیاسی ایشو پر ٹکراؤ تھا۔ بانی پی ٹی آئی نے انھیں ہٹانے کا فیصلہ صادر کیا ۔ سہیل آفریدی کو بطور وزیر اعلی نامزد کردیا،اس فیصلے پر دیگر سیاسی جماعتوں ہی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے لوگ بھی حیران ہوگئے ۔مجھے بھی کافی حیرانگی دیکھنے کو ملی۔

 سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنوا کر بانی پی ٹی آئی نے ثابت کیا کہ وہ جسے چاہیں ہٹا سکتے ہیں اور جسے چاہیں، وزیراعلیٰ بنا سکتے ہیں، پی ٹی آئی کی قیادت اور پارلیمنٹرینز میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کچھ کرسکیں۔ علی امین گنڈا پور جو علیمہ خان کے ساتھ اختلافات کے دوران کہا کرتے ہیں کہ جس میں ہمت ہے، وہ اس کے خلاف عدم اعتماد لے آئے لیکن جیسے ہی نئے وزیراعلیٰ کی نامزدگی ہوئی، ان کے پاس سوائے تعمیل حکم کے کوئی چارہ کار نہیں تھا۔

علی امین گنڈا پور کی تبدیلی کی تین وجوہات سامنے آئیں۔اول، بانی پی ٹی آئی کی جانب سے مسلسل حکم کے باوجود وزیر اعلی اپنے صوبے میں جاری دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بند کرانے میں ناکام رہے بلکہ کھل کر مخالفت بھی نہ کرسکے ۔ بانی پی ٹی آئی کے بقول وہ پارٹی سے زیادہ جھکاؤ اسٹیبلیشمنٹ کی طرف رکھتے ہیں ۔دوئم، وہ بطور وزیر اعلی اور صوبائی قیادت بانی پی ٹی آئی کی حمایت میں کوئی ایسی بڑی احتجاجی تحریک چلانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ، جس کی وجہ سے وفاقی حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ کو دباؤ میں لایا جا سکے۔

اسی طرح علی امین گنڈا پور اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان رابطہ کاری بھی بانی پی ٹی آئی کو مقدمات میں کوئی بڑا ریلیف نہیں دے سکی۔سوئم، ایک طرف علی امین گنڈا پور کی صوبائی سطح پر پارٹی میں قبولیت اور کردار پر سخت تنقید ہورہی تھی تو دوسری طرف بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان پر جو سنگین الزامات عائد کیے گئے، اس سے بھی علی امین گنڈا پور کو پارٹی میں بھی اور بانی پی ٹی آئی کے سامنے سیاسی سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ایک دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی اپنی جماعت میں مزاحمت کی سیاست کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور صوبہ خیبر پختونخوا کو عملا اس مزاحمت کی تحریک کا مرکز بنا کر وفاقی حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ پر بڑے دباؤ کی سیاست پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن علی امین گنڈا پور بانی کا یہ ہدف پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

پی ٹی آئی یا بانی پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے جاری آپر یشن رکوانا چاہتے ہیں ، اس کے علاوہ وہ چاہتے تھے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ افغانستان جاکر خود براہ راست طالبان کے ساتھ معاملات طے کریں لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ ادھر یہ واضح ہوچکا ہے کہ وفاقی حکومت بالخصوص اسٹیبلیشمنٹ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کو دہشت گردی کے ایشو پرکوئی ڈھیل دینے کے لیے تیار نہیں ہے اور نہ اس معاملے پر مذاکرات کی حامی ہے اور اس نے فیصلہ کرلیا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے داخلی اور خارجی سہولت کاروں اور ہینڈلر و فنانسرز کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نبٹا جائے گا۔ نئے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے اپنی پہلی تقریر میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جنگیں یا طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں سمجھا جاتا لیکن یہ بات بھی پیش نظر رکھنی ہوگی کہ افغانستان کی سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہورہی ہے ۔ افغانستان کی طالبان حکومت دہشت گردوں کی سہولت کاری کررہی ہے، پاکستان کے تحفظات کے باوجود ہمیں افغان حکومت سے وہ مدد نہیں مل رہی جو ہمیں درکار ہے ۔بلکہ یہ دیکھا جارہا ہے کہ افغان قیادت بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف جارحیت پر اتر آئی ہے ۔ایسے میں مذاکرات کیسے شروع ہوںگے اور کون اس کاضامن بنے گا۔ افغانستان کی طالبان قیادت ناقابل اعتبار ہوچکی ہے۔چین کی ثالثی کا عمل بھی کمزور نظر آرہا ہے ۔

طالبان پاکستان کے تحفظات پر سنجیدگی دکھانے کے لیے تیار نہیں۔ اگر ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی جاری رہے گی تو ایسے میں مذاکرات کی بات کرنا، احمقانہ بات نظر آتی ہے۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کی وحدت،سالمیت اور سرحدوں کا تحفظ اولین ترجیح بن جاتی ہے۔ وفاقی حکومت ، صوبائی حکومتیں ، قومی اورصوبائی سیاسی و مذہبی سیاسی جماعتوں کی قیادت پاکستان کی سلامتی،وحدت اور ملکی سرحدوں کے تقدس و تحفظ کے برعکس موقف اختیار نہیں کرسکتیں۔ سب کو دہشت گردوں اور دہشت گردی کے خاتمے کے ایجنڈے پر متفق ہونا پڑے گا۔خیبر پختونخوا، بلوچستان اور دیگر صوبے میں ہونے والی دہشت گردی کے تناظر میں سیاسی تقسیم اور ٹکراؤ کی گنجائش نہیں ہے۔

ہم اپنے ملک پر کسی گروہ یا دوسرے ملک کے مفادات کو اہم قرار نہیں دے سکتے۔ایسے میں اگر ایک یا دو جماعتیں یا کسی صوبے کی حکمران جماعت اور وزیر اعلی دہشت گردی سمیت دیگر سیاسی مسائل پر وفاق سے ٹکراؤ کی پالیسی کی طرف بڑھتے ہیں تو یہ کوئی اچھی حکمت عملی نہیں ہوگی۔اس لیے خیبر پختونخوا کے نئے وزیر اعلی کو کسی ایسے اقدام سے گریز کرنا چاہیے جو مزاحمت کے نام پر کسی بڑے ٹکراؤ کو پیدا کرسکے۔کیونکہ اگر ہم داخلی طور پر کسی بڑے ٹکراؤ کی سیاست کا حصہ بنیں گے تو اس سے نہ صرف حالات اور زیادہ بگاڑ کا شکار ہوںگے بلکہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ بھی متاثر ہوگی اور دہشت گرد ہماری داخلی تقسیم سے فائدہ اٹھائیںگے ۔ لیکن آخری نقصان وفاق پاکستان کی پالیسی سے ٹکرانے والوں کا ہوگا۔

لہذا اس داخلی ٹکراؤ سے بچنے کی حکمت عملی پر توجہ دینی ہوگی۔کیونکہ پہلے ہی دہشت گردی سے جڑے مسائل ہمیں سیاسی،معاشی اور سیکیورٹی کے تناظر میں کمزور کررہے ہیں اور یہ کمزوری کا عمل مجموعی طور پر ریاست کو درپیش ہے اور اسے صوبائی مسئلہ نہ سمجھا جائے ۔اس لیے سارے فریقین مل کر ہی مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں اور دہشت گردی یا ان کے سہولت کاروں کے خلاف کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

حکومت جو کچھ بھی کرے جمہوری،آئینی اور قانونی فریم ورک میں رہ کر کرے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی نے مزاحمت کا راستہ ہی اختیار کرنا ہے تو وہ بھی جمہوری سیاسی اور آئینی و قانونی فریم ورک سے باہر نکل کر نہ کرے۔ ایسے طرز عمل سے ہی مل جل کر مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جاسکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: علی امین گنڈا پور خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی دہشت گردی کے وفاقی حکومت وزیر اعلی حکمت عملی اور اس

پڑھیں:

ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے۔

راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ چاہتے ہیں بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو۔

انہوں نے کہا کہ ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لیے یہ ملنے نہیں دے رہے، مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو کم از کم فیملی کو ملنے دیا جائے۔

بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر

پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) رہنما جنید اکبر نے کہا ہے کہ جس دن بانی پی ٹی آئی محمود اچکزئی سےمطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا سہیل آفریدی وزیراعلیٰ ہوگا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو بدل نہیں سکتی۔

اُن کا کہنا تھا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیراعلیٰ رہوں گا، کے پی میں ہماری حکومت فقط بانی چیئرمین ہی ختم کرسکتے ہیں۔

سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ کے پی میں فارورڈ بلاک پروپیگنڈا ہے، جو اس لیے کیا گیا کہ وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔

بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی

اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کرالیا ہے، ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، کے پی حکومت عوام دوست بجٹ پیش کرے گی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہمارا سارا فوکس صحت، تعلیم، زراعت، نوجوان اور جنگلات پر ہے، ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لارہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا