اے پی ڈھلوں نے بالی ووڈ سے دوری کی اصل وجہ بتا دی
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
ممبئی (شوبز ڈیسک) پنجابی سنگر اور عالمی شہرت یافتہ آرٹسٹ اے پی ڈھلوں نے پہلی بار وضاحت کی ہے کہ وہ اب تک بالی ووڈ کے کسی گانے کا حصہ کیوں نہیں بنے۔
ایس ایم ٹی وی پوڈکاسٹ پر بات کرتے ہوئے “براون منڈے” کے گلوکار نے بتایا کہ ان کا فیصلہ انا نہیں بلکہ اصول کی بنیاد پر ہے۔ ان کا کہنا تھا، “میں نے آج تک بالی ووڈ کے لیے کوئی گانا اس لیے نہیں گایا کیونکہ وہ ہر چیز پر قبضہ چاہتے ہیں — گانا، ریمکس کے حقوق، حتیٰ کہ منافع بھی۔ یہ آرٹسٹس کے ساتھ ناانصافی ہے۔”
اے پی ڈھلوں نے بتایا کہ کچھ بڑے بالی ووڈ اداکاروں نے انہیں گانوں پر تعاون کی پیشکش کی، لیکن وہ اپنے ٹریکس پر مکمل کنٹرول چاہتے تھے۔
انہوں نے کہا، “میں نے ان سے کہا، جب تک یہ طریقہ نہیں بدلے گا، میں کوئی گانا نہیں کروں گا۔ اگر میں مان گیا تو نوجوان گلوکاروں کو بھی یہی کرنا پڑے گا اور وہ اپنی آمدنی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ میں ایسا نہیں چاہتا۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ حقیقی تبدیلی تب ہی ممکن ہے جب پنجابی موسیقار ایک ساتھ کھڑے ہوں۔ “فی الحال ہم میں سے صرف تین یا چار ہی لوگ ایسا کر رہے ہیں۔ اگر ایک منع کرے تو وہ اگلے کے پاس چلے جاتے ہیں۔”
دلجیت دوسانجھ، ہنی سنگھ اور بادشاہ جیسے کئی فنکار بالی ووڈ کے لیے گانے گا چکے ہیں، لیکن اے پی ڈھلوں نے اپنا الگ راستہ اختیار کیا۔
دوسری جانب ان کا نیا گانا “تھوڑی سی دارو”، جس میں شریا گھوشال اور تارا ستاریا شامل ہیں، ریلیز کے بعد تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔
اے پی ڈھلوں نے اس گفتگو کے فوراً بعد اپنے “ون آف ون انڈیا ٹور” کا اعلان بھی کر دیا ہے، جو 5 دسمبر کو احمد آباد سے شروع ہوگا۔ آٹھ شہروں پر مشتمل اس ٹور میں دہلی، لدھیانہ، پونے، بنگلورو، کولکتہ، ممبئی اور جئے پور میں بھی شوز منعقد کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بالی ووڈ
پڑھیں:
والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔
دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاقکمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے
واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔
نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگنئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔
میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔
الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی’میٹا‘ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔
یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔
’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرولسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔
یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین