مودی اور آر ایس ایس کا گٹھ جوڑ انتہا پسندی کی جڑ، ریاستی وزیر کو قتل کی دھمکیاں
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
بھارت میں نریندر مودی اور آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کے گٹھ جوڑ کو ملک میں نفرت، تعصب اور انتہا پسندی کی اصل جڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ مودی اور آر ایس ایس کی انتہا پسندانہ سوچ نے بھارت کو دہشتگردی کا گڑھ اور پورے خطے کو میدانِ جنگ میں بدل دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’مودی ٹرمپ اور امریکا سے خوفزدہ ہیں ‘، راہول گاندھی کی بھارتی وزیرِاعظم پر تنقید
مودی کی سرپرستی میں آر ایس ایس کے انتہا پسند غنڈوں کے ہاتھوں اب خود حکومتی نمائندے بھی غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ آر ایس ایس کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے پر کرناٹک میں کانگریس کے وزیر پریانک کھرگے اور ان کے اہلِ خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
مودی اور آر ایس ایس گٹھ جوڑ، بھارت میں نفرت، تعصب اور انتہا پسندی کی جڑ
مودی اور آر ایس ایس کی انتہا پسندی نے بھارت کو دہشتگردی کا گڑھ اور خطے کو میدان جنگ بنا دیا
مودی کی پشت پناہی میں آر ایس ایس کے انتہا پسند غنڈو ں کے ہاتھوں حکومتی نمائندے بھی غیر محفوظ
آر ایس ایس کا… pic.
— PTV News (@PTVNewsOfficial) October 19, 2025
رپورٹ کے مطابق پریانک کھرگے نے آر ایس ایس کی غیر قانونی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ بعدازاں انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والا ایک شخص انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا نظر آیا۔
پریانک کھرگے نے اپنے بیان میں کہا کہ نریندر مودی اپنی نااہلیوں پر پردہ ڈالنے اور سیاسی مخالفین کی آواز دبانے کے لیے شرپسند تنظیم آر ایس ایس کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق نااہل مودی حکومت آر ایس ایس کے انتہا پسند ہندوتوا ایجنڈے کی سرکاری طور پر پشت پناہی کر رہی ہے۔
پریانک کھرگے نے مزید کہا کہ مودی کی ایما پر آر ایس ایس بھارت کے عوام کے ذہنوں کو نفرت، تعصب اور شدت پسندی سے زہر آلود کر رہی ہے۔ مودی اور آر ایس ایس کا یہ زہر آلود اتحاد بھارت کو نفرت اور خوف کی آگ میں جھونک رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی میڈیا کی من گھڑت خبریں بے نقاب، پاکستانی شہریوں کو دہشتگرد ثابت کرنے کی کوشش ناکام
انہوں نے خبردار کیا کہ مودی کی سرپرستی میں آر ایس ایس کا ہندوتوا ایجنڈا نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت ریاستی وزیر قتل کی دھمکیاں مودی آر ایس ایس گٹھ جوڑ وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت ریاستی وزیر قتل کی دھمکیاں مودی ا ر ایس ایس گٹھ جوڑ وی نیوز مودی اور آر ایس ایس میں آر ایس ایس آر ایس ایس کا پریانک کھرگے انتہا پسندی کی دھمکیاں گٹھ جوڑ مودی کی
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔