اسرائیلی فوج کا غزہ پر نیا حملہ، جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
اسرائیلی فوج نے غزہ پر نیا حملہ کیا، جس سے امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے پائیدار امن میں بدلنے کی امیدیں مدھم ہو گئیں،اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگا رہے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا اور مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر اتوار کے روز کیے گئے یہ حملے 11 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے بعد اب تک کا سب سے بڑا امتحان بن گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی، حملے میں 9 فلسطینی شہید
عینی شاہدین کے مطابق جنوبی غزہ کے علاقے رفح اور خان یونس میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ اباسن کے مشرقی علاقے میں اسرائیلی ٹینکوں کی گولہ باری کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
خان یونس کے رہائشیوں نے بتایا کہ اتوار کی دوپہر کے وقت اسرائیلی فضائیہ نے رفح پر متعدد فضائی حملے کیے۔ جب اسرائیلی حکومت کے ترجمان سے ان حملوں کی تصدیق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے معاملہ فوج کے سپرد کر دیا، تاہم فوج کی جانب سے کوئی فوری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
شمالی غزہ میں فضائی حملہ، 2 فلسطینی جاں بحقمقامی محکمہ صحت کے مطابق اتوار کے روز شمالی غزہ کے علاقے جبالیا میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں دو فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔
اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق فوج نے رفح کے علاقے میں فضائی کارروائیاں اس وقت شروع کیں جب وہاں جنگجوؤں نے اسرائیلی افواج پر حملہ کیا۔ تاہم رپورٹ میں کسی مخصوص ماخذ کا حوالہ نہیں دیا گیا۔
ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے تصدیق کی کہ حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی دستوں پر راکٹ لانچر اور سنائپر حملے کیے، جو اسرائیل کے زیر کنٹرول علاقے میں ہوئے۔ عہدیدار کے مطابق یہ جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم، دیر پا امن کے لیے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ
دوسری جانب حماس کے سینئر رہنما عزت الرشق نے کہا کہ حماس جنگ بندی کے معاہدے کی پابند ہے، اور اس کی خلاف ورزی اسرائیل کر رہا ہے۔
غزہ کی سرکاری میڈیا آفس کے مطابق اسرائیل نے جنگ بندی کے بعد سے اب تک 47 خلاف ورزیاں کی ہیں، جن میں 38 افراد ہلاک اور 143 زخمی ہوئے۔ ان خلاف ورزیوں میں شہریوں پر براہِ راست فائرنگ، گولہ باری، نشانہ بندی کے حملے اور گرفتاریوں کے واقعات شامل ہیں۔
رفح کراسنگ غیر معینہ مدت تک بنداسرائیل اور حماس کئی دنوں سے ایک دوسرے پر جنگ بندی توڑنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ غزہ اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ آئندہ اطلاع تک بند رہے گی۔
رفح کراسنگ مئی 2024 سے زیادہ تر بند ہے۔ جنگ بندی معاہدے میں غزہ کے لیے امداد میں اضافہ بھی شامل ہے، جہاں لاکھوں افراد قحط کی سنگین صورتحال سے دوچار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ جنگ بندی کے ایک روز بعد ہی اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے
اسرائیل اور حماس کے درمیان تاحال یرغمالیوں کی باقی ماندہ لاشوں کی واپسی پر بھی تنازع برقرار ہے۔ اسرائیل کے مطابق حماس کو 28 یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنی ہیں۔ اب تک حماس 20 زندہ یرغمالیوں اور 12 لاشوں کی حوالگی کر چکی ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ باقی لاشیں ملبے تلے دبی ہیں جن کی بازیابی کے لیے خصوصی آلات اور وقت درکار ہے۔
ادھر امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے کے راستے میں بھی کئی رکاوٹیں حائل ہیں، جن میں حماس کا غیر مسلح ہونا، غزہ کی آئندہ حکومت، ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی تشکیل، اور فلسطینی ریاست کے قیام جیسے امور شامل ہیں۔
امریکی سفارتخانے نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے تمام سوالات امریکی محکمہ خارجہ کو بھیج دیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسرائیل بمباری ٹینک جنگ بندی حماس خان یونس خلاف ورزی رفح رفح کراسنگ غزہ فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ٹینک خان یونس خلاف ورزی فلسطین اسرائیلی فوج جنگ بندی کے اسرائیل کے خلاف ورزی کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔