دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور دوسرے نمبر پر آگیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
ادارہ تحفظِ ماحولیات پنجاب کے مطابق مشرقی سمت سے آنے والی ہواؤں کے باعث شہر میں آلودگی کی شدت بڑھ رہی ہے۔ اتوار کے روز لاہور میں فضائی معیار کی اوسط شرح 195 سے 210 کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جو انتہائی خراب درجہ شمار ہوتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ فضائی آلودگی کے باعث لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں دوسرے نمبر پر پہنچ گیا۔ عالمی ماحولیاتی نگرانی کے ادارے آئی کیو ایئر کے مطابق اتوار کے روز لاہور میں فضائی معیار کی شرح (اے کیو آئی) 209 ریکارڈ کی گئی جب کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی 218 اے کیو آئی کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا۔ ادارہ تحفظِ ماحولیات پنجاب کے مطابق مشرقی سمت سے آنے والی ہواؤں کے باعث شہر میں آلودگی کی شدت بڑھ رہی ہے۔ اتوار کے روز لاہور میں فضائی معیار کی اوسط شرح 195 سے 210 کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جو انتہائی خراب درجہ شمار ہوتا ہے۔
بھارت میں دیوالی کی تقریبات میں آتش بازی کے باعث آئندہ چند روز تک لاہور کی فضائی آلودگی مزید بڑھنے کا امکان بھی ہے، ماہرین کے مطابق اس سطح کی آلودگی عام شہریوں کی صحت کے لیے خطرناک ہے، بالخصوص بچوں، بزرگوں اور سانس کے امراض میں مبتلا افراد کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ہوا کی رفتار ایک سے نو کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے کا امکان ہے جبکہ دوپہر کے وقت معمولی ہوا چلنے سے فضائی معیار میں عارضی بہتری متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فضائی معیار کے مطابق کا امکان کے باعث
پڑھیں:
پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
پشاور:حیات میڈیکل کمپلیکس پشاور میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری ہے جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے او پی ڈیز اور آپریشنز کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا جبکہ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے او پی ڈی کمروں کو تالے بھی لگا دیے۔ ہڑتال کے باعث اسپتال میں مختلف طبی سروسز کی فراہمی معطل ہو کر رہ گئی۔
اس صورتحال کے نتیجے میں علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اسفندیار نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے وعدے کے مطابق کرپشن کی شفاف تحقیقات کروائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس حوالے سے فوری اقدامات نہ کیے تو صوبے بھر کے تمام اسپتال بند کر دیے جائیں گے۔