خیبر پختونخوا اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گیڈر کے سو سالہ اقتدار سے شیر کا ایک دن کا اقتدار بہتر ہے، اس صوبے اور عوام کی امنگوں کے مطابق وقت گزاروں گا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان سے ملنے نہیں دیا گیا تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا، بانی سے ملاقات کے بعد ہی وزارت داخلہ کے ساتھ بیٹھیں گے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گیڈر کے سو سالہ اقتدار سے شیر کا ایک دن کا اقتدار بہتر ہے، اس صوبے اور عوام کی امنگوں کے مطابق وقت گزاروں گا، اپنے صوبے کے عوام کا سر جھکنے نہیں دوں گا، میرا لیڈر اس سسٹم کا باپ ہے، وزیراعظم کی جانب سے جو ایجنڈا آیا وہ امن و امان کے حوالے سے نہیں تھا، مزمل اسلم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اس نے صوبے کا مقدمہ لڑا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے گندم خیبر پختونخوا کو دینے سے روکی ہوئی ہے، وزیراعظم کے اجلاس میں گندم کا مسئلہ اٹھایا، افغان مہاجرین کے مسئلے ہر ہمارا موقف واضح ہے، میرے قائد نے مہاجرین کے حوالے سے پالیسی دی تھی، جو 40 یا 45 سال رہ رہے ہیں انھیں باعزت طریقے سے واپس بھیجنا چاہیے، افغان مہاجرین کی واپسی قومی پالیسی ہے ہم اس ہر عمل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت کو جو تجاویز دیں اسے تسلیم کیا گیا، راتوں رات افغان مہاجرین کیمپ ختم کرنے کا اعلامیہ جاری کیا گیا، وزیراعظم نے وزارت داخلہ کو صوبائی حکومت کے ساتھ بیٹھنے کا کہا ہے، بانی چیئرمین سے ملاقات کے بعد وزارت داخلہ کے ساتھ بیٹھیں گے، صوبے کے حقوق کے لیے اپوزیشن کو ہمارا ساتھ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کے ذمے صوبے کے 5 سو ارب روپے بقایا ہیں، پرانی اور ایکسپائر گاڑیاں ہمیں دی گئیں، یہ گاڑیاں یم واپس کریں گے، دوہا اور استنبول میں مذاکرات خوش آئند ہے، ہماری مذاکرات کے حوالے سے تحفظات ہیں، تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا کے عوام نے کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیا، صوبے میں امن و امان کی صورتحال بند کمروں میں فیصلوں کی وجہ سے ہورہے ہیں ہم بند کمروں کے فیصلے نہیں مانیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے لیے میڈیکل کالج اور یونیورسٹی کا اعلان کیا ہے، ہدایات جاری کی ہیں صوبے میں کوئی جھوٹی ایف ائی آر درج نہیں ہوگی، 3 ایم پی او کے تحت کسی سیاسی ورکر کو گرفتار نہیں کیا جائے گا، کسی طالب علم پر مقدمہ درج نہیں ہوگا، صوبے میں خواتین پولیس اسٹیشن قائم کیے جارہے ہیں، کرپشن کے لیے زیرو ٹالرنس ہوگا، تبادلوں کے لیے شفاف پالیسی تیار کی جائے گی، احساس پروگرام کے تحت پروگرام شروع کریں گے اور جاری رہیں گے، نیو بلین ٹری سونامی پروگرام کا افتتاح کریں گے، اس دفعہ تبدیلی حقیقی معنوں میں نظر آئے گی۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ وزارت اعلیٰ کے لیے میرا نام  آنے کے بعد من گھڑت الزامات لگائے گئے، مجھے ناکام کرنے کے لیے  ایک بیانیہ بنایا جارہا ہے، یہ کہا جارہا ہے اداروں اور وفاق سے ٹکراؤ ہوگا، میں آئین و قانون کی بات کرتا ہوں اپنے لیڈر سے ملاقات کی بات کرتا ہوں تو ٹکراؤ ہوگا؟ ان کا کہنا تھا کہ مجھے اپنے قائد سے ملنے نہیں دیا جارہا اسی لیے کابینہ تاخیر کا شکار ہے، میں اپنے عوام کے حقوق کی بات کرتا ہوں تو ڈنکے کی چوٹ پر کروں گا، اگر قائد سے ملنے نہیں دیا گیا تو میں اپنا مقدمہ عوام کے ساتھ رکھوں گا، میں چارسدہ اور خیبر کی عوام کے سامنے اپنا مقدمہ رکھوں گا، میں کرک میں اپنا مقدمہ پیش کروں گا اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔ بعدازاں خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کرتا ہوں کا اعلان کروں گا کریں گے دیا گیا کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان