Jasarat News:
2026-07-24@15:44:00 GMT

پاک افغان معاہدہ، بیرونی اثرات سے بھی نکلیں

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

افغانستان میں روسی مداخلت اور دراندازی کے بعد سے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات سرد گرم اور تلخ اور پرجوش ہوتے رہے ہیں، اور حکومتوں کی تبدیلی سے بھی ان تعلقات کی نوعیت تبدیل ہوتی رہتی ہے، لیکن افغانستان میں امریکی مداخلت، بیس برس طالبان بلکہ افغانوں سے جنگ اور اس کے فرار کے بعد سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھنچاؤ تھا جو بڑھ کر تصادم میں تبدیل ہوگیا، بلکہ جنگ کی سی کیفیت ہوگئی۔ افغانستان اور پاکستان کی مسلح افواج کے مابین کئی روز کی شدید کشیدہ صورت حال میں پاکستان کی جانب سے افغان دارالحکومت کابل پر حملے سے صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی، تاہم اس کے بعد فریقین میں عارضی جنگ بندی بھی ہو گئی۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق عارضی جنگ بندی طالبان کی درخواست پر حکومت پاکستان اور افغان طالبان کے مابین باہمی رضا مندی سے ہوئی۔ طے پایا کہ جنگ بندی کے دوران فریقین تعمیری بات چیت کے ذریعے اس پیچیدہ مسئلے کا مثبت حل تلاش کرنے کی مخلصانہ کوشش کریں گے۔

قطر اور سعودی عرب نے پاک افغان تنائو کم کرنے میں تعاون کیا اور یہ مذاکرات بھی کامیاب ہوگئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ عارضی جنگ بندی مستقل رہتی ہے کہ نہیں، اس میں طے شدہ نکات پر عمل ہوتا ہے کہ نہیں، افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال بند ہوتا ہے کہ نہیں، اس سے قبل بیان بازیاں ہوتی رہیں صورتحال کے بارے میں پاکستانی سفارتی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی بھر پور جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان نے براہ راست رابطہ بھی کیا۔ دونوں ممالک میں یہ کیفیت کیوں ہوئی اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ اس وقت دونوں ہی اپنے تعلقات کو اپنے حالات کے تناظر میں دیکھنے اور حل کرنے کے بجائے دوسرے کی آنکھ اور عینک سے دیکھ اور سمجھ رہے ہیں، اور وہ دوسرے بھی کون؟ امریکا اور بھارت، یہ دونوں آج تک کسی کے لیے بھی قابل اعتبار ثابت نہیں ہوئے، امریکا طالبان سے اپنی شکست پر خجالت کا شکار ہے، وہ پاکستان سے ان کی مرمت کرانا چاہتا ہے اس میں اس کا براہ راست کوئی نقصان نہیں، بس کچھ منصوبوں اور امداد کی اس کام پر عمل سے مشروط منظوری کافی ہے۔ دوسری طرف بھارت ہے جو ان ہی طالبان کی آمد اور امریکا کے فرار کے بعد افغانستان سے نکلنے پر مجبور ہوگیا تھا، اور اب مئی میں پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت پر دیوانگی کی حد تک بدلے کی آگ میں سلگ رہا ہے، چنانچہ اس نے طالبان کو پاکستان کے خلاف اُکسانے میں اپنا کردار ادا کیا اور پاکستان کی جانب سے اعتدال اور احتیاط کا رویہ نہیں رکھا گیا۔ دونوں جانب سے بیان بازی اور الزام تراشی ہوئی لیکن پاکستان بڑا ہونے کے ناتے تحمل سے کام لیتا اور بھارتی سازش کو ناکام بناتا تو زیادہ بہتر تھا، عارضی جنگ بندی میں جس بات پر زور دیا گیا اس میں تین اہم نکات اور جہات ہیں، ایک ’’تعمیری بات چیت‘‘ دوسرے ’’مثبت حل‘‘ اور تیسرا سب سے اہم نکتہ ’’مخلصانہ کوششیں‘‘ مذاکرات پر وہ بھی راضی ہیں جو مذاکرات کے بجائے جنگ کا جواز دے رہے تھے، اب اگلے دور میں جو استنبول میں ہوگا اس میں جو بھی بات ہو ان تینوں جہات پر توجہ مرکوز رہے اور مخلصانہ رہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، ورنہ جنگ پر تو سب تیار ہیں۔ دونوں یہاں تک کیوں پہنچے تو سامنے کی بات ہے کہ بدقسمتی سے موجودہ افغان قیادت بھارت کے جال میں آگئی، جو پاکستان کا ازلی دشمن ہے بلکہ وہ پاکستان کے وجود ہی کو دل سے تسلیم نہیں کرتا اسے جب اور جہاں موقع ملتا ہے وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتا۔

پاکستان میں دہشت گردی و حالات کی خرابی کا ذمے دار ہمیشہ سے بھارت ہی رہا ہے جس کا ٹھوس اور ناقابل تردید ثبوت کلبھوشن یادو ہے۔ اسی طرح ’’آپریشن بنیانٌ مرصوص‘‘ کی شاندار کامیابی اور اپنی عبرت ناک شکست کے بعد سے وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اْتر آیا ہے اس کی جارحانہ دہشت گردی کی سرگرمیوں کا مرکز افغانستان ہے۔ افغان وزیر خارجہ کے حالیہ دورۂ بھارت سے یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے کہ افغانستان پوری طرح بھارت کے چنگل میں پھنس چکا ہے چنانچہ افغان قیادت نے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے کر پاکستانی عوام کے جذبات ہی کو ٹھیس نہیں پہنچائی جس کی کشمیر شہ رگ ہے بلکہ کشمیر کے اسی لاکھ مسلمانوں کے زخموں پر بھی نمک پاشی کی ہے۔ اس مسئلے کا حل تو یہی ہے کہ پہلے دونوں ملک بیردنی اثرات سے نکلیں اپنے حالات کے مطابق اپنے قومی مفاد میں فیصلے کریں، صرف افغانستان بھارت کے اثر سے نہیں نکلے بلکہ پاکستان بھی امریکی مفادات کے بجائے اپنے مفاد کی نگرانی کرے۔ بیرونی اثر سے دونوں کو نکلنا ہوگا۔

مظفر اعجاز.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان کے پاکستان کی کے بعد

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق

مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے بڑی سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس اور مسلم کانفرنس کے صدر سردارعتیق کی ملاقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔  آزاد کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کےبعد بھی مشترکہ حکمت عملی کےتحت آگےبڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔ طے پایا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی امیدواروں کی حمایت کا حتمی اعلان جلدکرے گی۔

لومئیربرادرز اپنی ایجاد پر بہت مسرور تھے، وہ جہاں بھی اپنا سینما لے کر جاتے لوگ ششدر رہ جاتے ، وہ یہ کھیل تماشہ لے کر ہندوستان بھی آئے تھے

دونوں قائدین نے  مسلح افواج اوراداروں کی مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ ملاقات میں آئی پی پی کی جانب سے سردار امتیاز،سردارافتخار رشید اور سردارمنظور ایڈووکیٹ موجود تھے۔ سردارمحمود خان، سردار شجاع منگول، شبدیزصابر سمیت دیگر آئی پی پی رہنما بھی شریک ہوئے۔ جبکہ مسلم کانفرنس کے سردارعثمان عتیق،ڈاکٹرعرفان اشرف،سردارعفان عتیق،راجاعبدالجبار اور دیگر نے شرکت کی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق