Jasarat News:
2026-06-03@03:36:16 GMT

ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا خدشہ

اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(آن لائن)سندھ حکومت کی جانب سے سندھ انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کے نفاذ سے پیٹرولیم مصنوعات کی کراچی پورٹ سے کلیئرنس میں تاخیر کے سبب ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے وزیراعلیٰ کو ہنگامی خط لکھ کر آگاہ کردیا، پیٹرولیم مصنوعات کے ڈسچارج ہونے والے کارگو اور بندرگاہوں
پر کھڑے جہاز بھی ڈسچارج ہو رہے ہیں، فوری کسٹم کلیئرنس کی ضرورت ہے۔او سی اے سی کے مطابق پی ایس او کا کارگو آئل ٹینکرز ایم ٹی اسلام 2 اور ایم ٹی حنیفہ کسٹم کلیئرنس کے لیے برتھوں پر لنگرانداز ہیں، کیماڑی میں آئل کا ذخیرہ ختم ہو رہا ہے، کے پی ٹی پر برتھ لنگرانداز دو جہازوں کو فوری کسٹمز کلیئرنس کرنے کی ضرورت ہے کسٹمز کلیرنس کے بعد ہی ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کے تسلسل کو یقینی بنایا جاسکیگا۔او سی اے سی کے مطابق وافی انرجی کے پیٹرولیم کارگو اور کے پی ٹی میں 21 اکتوبر کو پارکو کے کروڈ کارگو کو بھی کلیرنس نہ ملی تو مسئلہ بڑھ جائے گا، سیس کے نفاذ سے ڈاؤن اسٹریم پیٹرولیم انڈسٹری کو شدید مالی اور آپریشنل خطرات لاحق ہیں۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے کہا ہے کہ سیس کے 1.

8فیصد کا نفاذ پیٹرولیم مصنوعات کی لاگت میں 3 روپے فی لیٹر سے زیادہ کا اضافہ ہوسکتا ہے، پیٹرولیم مصنوعات پر سیس کا نفاذ بالآخر عوام پر بوجھ پڑے گا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔اوسی اے سی کے مطابق زرعی سیزن جاری ہیاس صورتحال میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین ملک بھر میں رک جانے کا خطرہ ہے، مسئلہ ہونے کے بعد بھی پیٹرولیم مصنوعات کی بحالی میں دو ہفتے لگ سکتے ہیں حکومت سے نوٹس کی فوری درخواست کرتے ہیں۔

خبر ایجنسی

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں پیٹرولیم مصنوعات کی ملک بھر میں سی اے سی

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی