امریکا‘ چھوٹا طیارہ جنگل میں گر کر تباہ‘ باپ بیٹیوں سمیت ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا‘ چھوٹا طیارہ جنگل میں گر کر تباہ‘ باپ بیٹیوں سمیت ہلاک
واشنگٹن: امریکی ریاست میںایک چھوٹا طیارہ ا±ڑان بھرنے کے ساتھ ہی جنگل میں گر کر تباہ ہوگیا، جس میں ایک ہی خاندان کے کئی افراد ہلاک ہوگئے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست مونٹانا میں ایک انجن والا چھوٹا طیارہ ا±ڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد گھنے جنگل میں گر کر تباہ ہو گیا۔ نیوز ایجنسیز کے مطابق باپ اور2 بیٹیاں مونٹانا کے شہر پولسن جانے کے لیے چھوٹے طیارے میں سوار ہوئے تھے۔ جہاں موسم کی خرابی کو نظر انداز کرتے ہوئے 62 سالہ امریکی شخص نے اپنی 2 بیٹیوں کی ضد کی آگے ہار مان لی اور طیارے کو ا±ڑانے لگے۔ جبکہ دوسری طرف طیارہ فنی خرابی کے باعث طیارہ مکمل اڑان نہیں بھر سکا اور زمین بوس ہوگیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد طیارے کے ملبے سے 62 سالہ مارک اینڈرسن، 22 سالہ لینی اور 17 سالہ ایلی کی لاشیں نکال لی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنگل میں گر کر تباہ چھوٹا طیارہ
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔