چارسدہ میں آٹھ سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
چارسدہ کے علاقے تنگی میں آٹھ سالہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے بعد قتل کے واقعے پر چار سیاسی جماعتوں کی خواتین اراکین اسمبلی نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرادیا۔نوٹس جمع کرانے والوں میں پیپلز پارٹی کی شازیہ طہماس، اے این پی کی خدیجہ، جے یو آئی کی ریحانہ اسماعیل، مسلم لیگ (ن) کی افشاں حسین اور سونیا حسین شامل ہیں۔توجہ دلاؤ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ضلع چارسدہ میں پیش آنے والا یہ افسوسناک واقعہ عوام میں شدید غم و غصے اور بے چینی کا باعث بنا ہے۔ نوٹس میں مزید کہا گیا کہ اس طرح کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔خواتین اراکین اسمبلی نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام حکومت کی زمہ داری ہے جس کی روک تھام کے لیے فوری اور سخت اقدامات کیے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔