باجوڑ میں فورسز کا آپریشن، ایک دہشتگرد ہلاک، دیگر زخمی حالت میں فرار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شاہی تنگی کے جنگل میں موجود ایک غار پر گھات لگا کر سکیورٹی فورسز نے بھرپور کارروائی کی، جہاں خوارج اور فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ سکیورٹی فورسز نے کامیاب آپریشن کرتے ہوئے ایک خارجی کو ہلاک کردیا جب کہ اس کے دیگر ساتھی زخمی حالت میں فرار ہو گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز کی باجوڑ کے علاقے میں خوارجیوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں فورسز نے شاہی تنگی جنگل میں موجود خارجی دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور سرنگوں کا مکمل طور پر صفایا کردیا۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شاہی تنگی کے جنگل میں موجود ایک غار پر گھات لگا کر سکیورٹی فورسز نے بھرپور کارروائی کی، جہاں خوارج اور فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس کے نتیجے میں ایک خارجی ہلاک اور دیگر زخمی خوارج علاقے سے فرار ہو گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز نے علاقے میں موجود سرنگوں اور قریبی مقامات کو بھی کلئیر کر دیا ہے۔ کارروائی کے دوران خوارج کے زیر استعمال اسلحہ، بارودی مواد اور مواصلاتی آلات بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فورسز نے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔